خطبات محمود (جلد 17) — Page 261
خطبات محمود ۲۶۱ سال ۱۹۳۶ سے اوپر کوئی معیار ہے نہیں لیکن ہماری کمزور نظر اس سے اوپر دیکھ نہیں سکتی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب بچے تھے اور یتیم بچے ان کا چچا ان کو پال رہا تھا ان کو جس وقت ساری قوم نے شرک کیلئے مجبور کیا جسے ان کی فطرت قبول کرنے کیلئے تیار نہ تھی ان کے چاچی اور چچا زاد بھائیوں نے ان کو مشورہ دیا کہ ہم پر وہت اے ہیں اور ہمارا گزارا ہی اس پر ہے اگر آپ نے بتوں کی پرستش نہ کی تو ہمارا رزق بند ہو جائے گا۔اُس وقت اس نہایت ہی چھوٹی عمر کے بچے کی نے دلیری سے یہ جواب دیا کہ جن بتوں کو انسان اپنے ہاتھ سے گھڑتا ہے ان کو میں ہر گز سجدہ نہیں کر سکتا۔اس جواب کا اندازہ ہر شخص نہیں کر سکتا صرف وہی کر سکتا ہے جسے قربانی کرنے کا موقع ملا ہو۔آج جبکہ ایک منظم حکومت ہندوستان میں موجود ہے اور میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ظلم ہوتا نہیں کیونکہ ہمیں خود ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن اکثر حکام انصاف کی کوشش ضرور کرتے ہیں ایک قانون موجود ہے جو چاہتا ہے کہ انصاف ہو گو ظالم اپنے ظلم کیلئے اس میں سے رستے نکال لیتے ہیں لیکن پھر بھی ظلم حد کے اندر رہتا ہے اس پر امن زمانہ میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں پر جب صداقت کھل جاتی ہے تو وہ مجھے لکھتے ہیں کہ اگر ہم مسلمان یا احمدی ہو جائیں تو ہمارے ی گزارہ کی کیا صورت ہوگی ؟ ہمارے ساتھ ہمدردی کی کیا صورت ہوگی ؟ آج جب احمدیت کو قبول کی کرنے میں کوئی خاص تکالیف نہیں سوائے معمولی تکالیف کے اچھے اچھے تعلیم یافتہ ، بڑی عمر کے اور بیوی بچوں والے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمدردی کی کیا صورت ہوگی ؟ گزارہ کا کیا کی انتظام ہوگا ؟ لیکن حضرت ابراہیم جو یتیم ہونے کی وجہ سے پہلے پہلے ہی شکستہ دل تھے اور جن کا پہلے ہی ہی کوئی ٹھکانہ نہ تھا اپنے چچا کے ہاں اور اس کی مہربانی سے پرورش پارہے تھے وہ اپنے دل سے یہ سوال نہیں کرتے کہ اب گزارہ کی کیا صورت ہوگی بلکہ بلا سوچے بہادرانہ طور پر یہ جواب دیتے ہی ہیں کہ جن بتوں کو انسان خود گھڑتے ہیں اُن کو میں سجدہ نہیں کر سکتا۔بعینہ اسی قسم کا واقعہ رسول کریم ﷺ کو پیش آیا جب ایک لمبے عرصہ تک آپ نے شرک کے خلاف تعلیم دی اور ایک لمبی کوشش کے بعد اہلِ مکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ کو دوبارہ اپنے دین کی میں شامل کر لینے سے مایوس ہو گئے تو مکہ کے رؤساء آپ کے چچا ابوطالب کے پاس گئے اور کہا کہ