خطبات محمود (جلد 17) — Page 260
خطبات محمود ۲۶۰ سال ۱۹۳۶ء اور انسان جب اس قسم کے واقعات سنتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا اس کے قلب میں بھی ویسے ی ہی خیالات پیدا ہور ہے ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ میں بھی اسی طرح کی بہادری اور جرات دکھاؤں۔یہ دونوں اخلاق اس قسم کے ہیں کہ دوسروں سے زیادہ اثر پیدا کرتے ہیں اس میں بھی خاص وجہ کی ہے مگر میں اس وقت یہ بحث کرنے کیلئے کھڑا نہیں ہوا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔اس وقت میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اخلاق ضرور زیادہ اثر ڈالتے ہیں اور طبائع جب ایسے واقعات دیکھیں تو ضرور متاثر ہوتی ہیں خواہ وہ دشمن سے ہی کیوں نہ سرزد ہوں۔ایک دشمن بھی اگر بہادری دکھاتا ہے تو دوسرا دشمن اس سے ضرور متاثر ہوتا ہے ایک دشمن بھی اگر وفاداری کا نمونہ پیش کرتا ہے تو دوسرا اُس سے ضرور اثر پذیر ہوتا ہے اور اگر دوست بھی بزدلی دکھاتا ہے یا کسی غیر سے بھی بے وفائی کا اظہار کرتا ہے تو باوجود دوست ہونے کے اس کا یہ فعل دوسرے دوست کے دل پر گراں گزرتا ہے۔پس یہ دوا خلاق جو نہایت گہرے طور پر انسانی فطرت پر مؤثر ہوتے ہیں ان کی اہمیت کا کوئی انکار کی نہیں کر سکتا اور اصل بات تو یہ ہے کہ ایمان سے ان کا بہت گہرا تعلق ہے۔کوئی شخص بغیر بہادری کی کے متوکل نہیں ہوسکتا اور کوئی بغیر وفاداری کے کامل الایمان نہیں ہو سکتا۔متوکل کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا پر بھروسہ رکھتا اور دنیا کی کسی چیز کو حقیقی قرار نہیں دیتا اور بزدلی کے یہ معنی ہیں کہ وہ کسی چیز کو ہے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔پس تو کل اور بہادری اور ایمان وفاداری قریباً مترادف الفاظ ہیں بیوفا شخص ایماندار نہیں ہو سکتا اور بزدل متوکل نہیں ہو سکتا۔کوئی شخص جتنا جتنا زیادہ تو کل میں کمال کے حاصل کرتا چلا جائے اتنا ہی زیادہ بہادر ہوتا جائے گا اور جتنا کسی کے اندر ایمان بڑھتا جائے وہ اتنا ہی وفادار ہوتا جائے گا۔در حقیقت تو کل نام ہے مذہبی بہادری کا اور ایمان نام ہے مذہبی وفاداری کی کا۔جب مذہب اور وفاداری جمع ہو جا ئیں تو اسے ایمان کہتے ہیں اور جب مذہب اور بہادری جمع ہو جائیں تو اسے تو کل کہتے ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی زندگیوں میں یہ دونوں باتیں نہایت نمایاں ہیں اور ان سے پہلے انبیاء کی زندگیوں میں بھی جن کے کی تاریخ کسی حد تک محفوظ ہے یہ دونوں باتیں نمایاں نظر آتی ہیں۔ایمان کے ساتھ ساتھ وفاداری اور بہادری بھی ترقی کرتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ وفا داری اور بہادری کے یسے اعلیٰ معیار پر پہنچ چکے تھے کہ اس سے اوپر کوئی معیار نظر نہیں آتا۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اس