خطبات محمود (جلد 17) — Page 230
خطبات محمود ۲۳۰ سال ۱۹۳۶ء تو نہ تھا۔حکومت کو اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا چاہئے تھا۔ہم بھی سب کچھ کر سکتے تھے مگر نہیں کیا۔قادیان میں ہمیں گالیاں دی گئیں بلکہ مارا بھی گیا، میرے بھائی پر ایک فقیر کے لڑکے نے حملہ کیا اور احرار نے کرایا ، بمبئی میں ایک احمدی بچے کی لاش کو دفن کرنے سے روک دیا گیا، بریلی میں اپنی خرید کردہ زمین پر نئی بنی ہوئی مسجد کو گرانے کی کوشش کی گئی ، احرار سے تعلق رکھنے والے بعض لوگوں کی نے مسجد کے پاس ایک مکان کرایہ پر اس نیت سے لیا کہ اس کی چھت پر سے مسجد کی چھت پر جایا تی جاسکے اور اسے نقصان پہنچایا جا سکے اور صاف لفظوں میں احمد یہ مسجد کے گرانے کا فتویٰ بھی کی شائع کیا گیا جو ہمارے پاس موجود ہے۔ابھی بھیرہ میں ایک احمدی کو مار مار کر اس کی کھوپڑی کی تو ڑ دی گئی پہلے تو ڈاکٹر اس کی زندگی سے مایوس تھے مگر اب اطلاع آئی ہے کہ زندگی کی کچھ امید ہوگئی ہے اور اس حملہ کی کوئی دنیوی وجہ نہیں تھی بلکہ محض مذہبی اختلاف اس کا موجب تھا۔پھر چوہدری اسد اللہ خان صاحب پر ریل میں حملہ کیا گیا اللہ تعالیٰ نے انہیں بچالیا۔سرہانہ دوسری طرف تھا اور خنجر لاتوں کے درمیان پھنس گیا اور نہ اگر سر اس کی طرف ہوتا تو خنجر سینہ میں اُتر جاتا۔اس تمام اشتعال انگیزی کے باوجود کیا حکومت سمجھتی ہے کہ ہمارے سینوں میں دلوں کی بجائے پتھر ہیں ہمارے سینوں میں بھی ویسے ہی دل ہیں جیسے ہمارے دشمنوں کے سینوں میں مگر فرق صرف یہ ہے کہ ان کے دلوں میں حکومت کا خوف ہے اور ہمارے دلوں میں خدا کا۔اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کا ڈر نہ ہوتا تو ہم ہندوستان کو اس کماری سے لے کر ہمالیہ تک خون سے بھر سکتے تھے لیکن ہم نے نہ صرف یہ کہ اسے نا پسند کیا بلکہ اپنی جماعت کو یہ سبق یاد کراتے رہے کہ ایسے افعال ناجائز ہیں ہمارے اس نیک کام کے عوض میں حکومت نے ہمارے ساتھ کیا نیک سلوک کیا یہی کہ چونکہ انہوں نے ہمارے رستہ میں روکیں پیدا نہیں کیں اس لئے ان کے دل دکھنے دو۔مگر اسے یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے ہاتھ تو خدا نے باندھ رکھے ہیں لیکن کاش وہ کل کے مؤرخوں کے ہاتھ اور قلم سے نکلنے والے الفاظ کو دیکھ سکتی۔حکومتیں ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتیں کیا کوئی حکومت ہے جو ہمیشہ قائم رہی ہو؟ کیا روم کی حکومت اپنے عروج کے زمانہ میں یہ خیال کر سکتی تھی کہ وہ کبھی تباہ ہو جائے گی ، قسطنطنیہ کی حکومت یہ سمجھ سکتی تھی کہ کوئی وقت آئے گا جب وہ مٹ جائے گی ، کیا ایران کا کیانی خاندان کبھی یہ وہم کر سکتا تھا کہ ایک زمانہ میں ان کا نام لینے والا بھی کوئی نہ ہوگا ، مصر کے فراعنہ کبھی اس کا تصور