خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 221

خطبات محمود ۲۲۱ سال ۱۹۳۶ء حکومت کو بالخصوص توجہ دلاتا ہوں۔مجھے افسوس ہے کہ وقت کا صحیح اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے میں ایسے وقت میں غسل کیلئے گیا کہ جمعہ کیلئے آنے میں دیر ہوگئی اور یہ مضمون کسی قدر طوالت چاہتا ہے مگر چونکہ اس کا جلد سے جلد بیان کر دینا ضروری ہے اور گرمی کا موسم شروع ہو جانے کی وجہ سے نماز کا وقت بھی لمبا ہو گیا ہے اس لئے میں اسے بیان کر دیتا ہوں۔یہ امر مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ ہے۔ہمارے دوستوں کو معلوم ہے کہ مولوی عطاء اللہ صاحب کے خلاف حکومت نے مقدمہ چلایا تھا اور ی پہلے مجسٹریٹ کی طرف سے ان کو کچھ سزا بھی دی گئی تھی۔ان کی طرف سے سیشن کورٹ میں اپیل کی گئی اور وہاں ان کی سزا صرف نام کے طور پر رہ گئی اور سیشن جج نے ایسا فیصلہ کیا جس سے ہماری جماعت کے دل سخت مجروح ہوئے ، مجروح ہیں اور مجروح رہیں گے۔اس کے خلاف ہماری طرف سے ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی جس پر جماعت کا قریباً پندرہ ہزار روپیہ خرچ ہو گیا۔ہائیکورٹ کے جج نے اپنے فیصلہ میں قریباً ان تمام شکایات کو جو ہم نے پیش کی تھیں درست تسلیم کیا ہے اور ان میں اصلاح کی لیکن بعض باتوں کے متعلق اس نے لکھا کہ چونکہ حکومت کی طرف سے سزا ی بڑھانے کی درخواست نہیں کی گئی اس لئے قانون مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں واقعات میں جاؤں اور میں مجبور ہوں کہ جس حد تک سختی یا سخت الفاظ کے استعمال کا سوال ہے یا ایسے امور کا سوال ہے جو عدالت کی کارروائی سے تعلق نہیں رکھتے صرف اسی حد تک اپنے فیصلہ کو محدود رکھوں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض واقعات جو ہماری انتہائی دل شکنی کا موجب ہیں بلکہ ہمارے مذہب پر حملہ ہیں وہ بغیر جواب کے رہ گئے اور جماعت ایسے حالات میں مبتلاء کر دی گئی کہ اس کیلئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ عدالت سے باہر ان کا فیصلہ کرے یا کرائے۔نیشنل لیگ۔کام کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ نیشنل لیگ کے بعض ممبر اس فیصلہ کے متعلق کی رائے زنی کر رہے ہیں ایک چھپا ہوا ٹریکٹ بھی مجھے ملا ہے اور اگر چہ اُسے پڑھنے کا موقع مجھے ی تا حال نہیں ملا لیکن جو اطلاعات مجھے ملی تھیں ان کی بناء پر نیز ٹائٹل کو دیکھ کر میں سمجھتا ہوں اس کی میں بھی یہی مضمون ہے۔مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیشنل لیگ کے صدر اس بارہ میں حکومت سے گفت وشنید کر رہے ہیں۔نیشنل لیگ کے قیام کی اجازت دیتے ہوئے جب جماعت سے چاروں طرف سے یہ آواز آ رہی تھی کہ ایک ایسی مجلس قائم کرنے کی اجازت دی جائے جو ان سیاسی امور