خطبات محمود (جلد 17) — Page 214
خطبات محمود ۲۱۴ سال ۱۹۳۶ء حواری کو اشارہ کر کے انہوں نے اپنے پاس بلایا جب وہ پاس پہنچ گیا تو انہوں نے اُس کو کہا کہ تم جانتے ہو یہ عورت کون کھڑی ہے؟ دیکھو! یہ تمہاری ماں ہے اور اے عورت! یہ تیرا بیٹا ہے جس کے صاف طور پر یہ معنی تھے کہ وہ ظاہری حالات کے لحاظ سے یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ان کا آخری وقت قریب ہے اور یہ کہ اب ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی ماں کی حفاظت اور اس کی تسلی کا کوئی انتظام کریں۔پس انہوں نے اپنے ایک حواری کو پاس بلا کر کہہ دیا کہ تیرا فرض ہے کہ تو اسے اپنی ماں سمجھے اور اے ماں ! تُو اس کو میری جگہ بمنزلہ اپنے بیٹے کے سمجھنا۔اُس وقت یہودی کتنے خوش کی تھے اور حواری کتنے رنجیدہ تھے مگر ان کو کیا علم تھا ان حالات کا جو بعد میں پیش آنے والے تھے۔آج انہیں سو سال گزر گئے مگر کہیں بھی یہود کو آرام کی جگہ نہیں ملتی۔ہر ملک ان کیلئے تنگ ہو رہا ہے آخری ملک ان کے آرام کا انگلستان تھا مگر اب انگلستان میں بھی ان پر حملے شروع ہو گئے ہیں۔اُنیس سو سال کا عرصہ کتنا لمبا ہوتا ہے لوگ سو سال کے بعد اپنے باپ دادوں کو بھول جاتے ہیں کی لیکن حضرت مسیح کو دُکھ دینے والے آج انہیں سو سال کے بعد بھی وہ دُکھ اٹھا ر ہے ہیں جن کی نظیر کی اور کسی قوم میں نہیں مل سکتی اور وہ مسیح جسے کانٹوں کا تاج پہنایا گیا اُس کی وہ عزت ہوئی کہ خدا اپنے کی عرش سے اُس کی تعریف کرتا اور قرآن مجید میں نہایت اعزاز کے ساتھ اس کا ذکر کرتا ہے اور عیسائی کی اس کی محبت میں اتنا غلو کرتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ وہ خدا کا اکلوتا بیٹا ہے جو عرش پر اس کے دائیں ہاتھ بیٹھا ہے۔جو پھانسی پر لٹکانے والے تھے اُنہیں دنیا میں کوئی ٹھکانا نہیں تھا مگر جسے پھانسی پر لٹکا یات گیا تھا اسے عرش پر بٹھا دیا گیا۔پس اُس وقت کے جو یہود اور حواریوں کے جذبات تھے آج اُن کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا اسی طرح جو آج یہود اور حضرت مسیح کے ماننے والوں کے جذبات ہیں ان کی کا پہلے لوگ بھی اندازہ نہیں کر سکتے تھے۔کیا ان یہودیوں کے باپ دادے یہ اندازہ کر سکتے تھے کہ ہمارے اس فعل کے نتیجہ میں کتنے ہزار سال تک ہماری اولادوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی چلی ہے جائے گی ؟ اور کیا حضرت مسیح کے حواری یہ خیال کر سکتے تھے کہ ان کی اس قربانی کے نتیجہ میں باوجودی اس کے کہ ان کی اولادیں دین کی مخالف ہو جائیں گی ، باوجود اس کے کہ وہ دین میں ابتری پھیلانے والی بن جائیں گی پھر بھی خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتی چلی جائیں گی ؟ پس ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بھی ایک نبی کی جماعت ہے اور اس سے بھی