خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 209

خطبات محمود ۲۰۹ سال ۱۹۳۶ء چنانچہ بدر کے دن بعض نے کہہ دیا کہ مسلمان بھی تمہارے بھائی ہیں ان کو کیسے مارو گے؟ گو یا شدید دشمنی کے باوجود محبت کا جوش غالب آ گیا۔پس اگر ہم سب آدم کی اولاد ہیں اور ساری دنیا ایک برادری ہے تو ہمارا فرض ہے کہ مخالفت کرنے والوں کو دعاؤں کے تیروں سے ماریں۔یہ چیز اچھی نہیں کہ ہم بد دعاؤں سے اپنے بھائیوں کے خون کریں۔ذاتی جوش میں ہمیں یہ نہ کہنا چاہئے کہ خدایا! ان پر و بال نازل کر بلکہ یہ دعا کرنی چاہئے کہ اے خدا ہم ان کی بہتری ہی چاہتے ہیں تباہی کی نہیں۔ہم خود بھی کمزور تھے مگر تیرے فضل نے ہمیں ڈھانپ لیا تیری رحمت اتنی وسیع ہے کہ اس سے ی باہر کوئی چیز نہیں پس اگر تو ان کو بھی ڈھانپ لے اور ہدایت دے دے تو اس سے زیادہ ہماری خوش قسمتی کیا ہوسکتی ہے لیکن اگر تیری حکمت بعض کو اس کا اہل نہیں سمجھتی اور ان کو فنا کرنے میں ہی بہتری ہے تو گو یہ بات ہمارے لئے رنج کا موجب ہوگی مگر ان کو ہمارے رستہ سے اس طرح ہٹا دے کہ اسلام کی ترقی میں ان کا وجود روک نہ رہے۔یہ طریق ہے جو ہمیں اختیار کرنا چاہئے یہ دعا بھی ہے اور بددعا بھی۔یہ دعا ہے اس لئے میں کہ سکتا ہوں کہ مؤمن بددعا کبھی نہیں کرتا اور یہ بددعا ہے اس لئے کہہ سکتا ہوں کہ مؤمن کبھی کبھی بددعا بھی کر لیتا ہے۔یہ چیز دونوں کے بین بین ہے اور دعا کی طرف بددعا کی نسبت زیادہ جھکی ہوئی ہے کیونکہ اس میں پہلے ہدایت کی دعا ہے۔ہاں یہ بھی ہے کہ اگر ہدایت مقدر نہ ہو تو پھر خدا ان کو ہمارے رستہ سے ہٹا دے تا دین کی ترقی میں روک نہ ہوں۔پس ہمارا غضب خدا کے لئے چاہئے اور اگر ہم اس طرح دعا کریں تو یقینا یہ غضب خدا کیلئے ہوگا لیکن اگر ہم کہیں کہ خدا ان کو ماردے تو اس سے ذاتی غصہ ظاہر ہوتا ہے۔پس ان دنوں میں اس رنگ میں دعائیں کرو جو میں نے اوپر بتایا ہے اور اس کے ساتھ جماعت کی اصلاح کیلئے بھی دعائیں کرو کیونکہ اگر یہ لوگ تباہ بھی ہو گئے اور ہم نے ان کی جگہ لے لی تو اس کا کیا فائدہ۔ایک جھوٹے اور فریبی کو ہلاک کروا کر اگر دوسرا جھوٹا اور فریبی جگہ لے لے تو اس میں کوئی خوبی کی بات نہیں۔اگر ہم خدا تعالیٰ کیلئے ان کی تباہی چاہتے ہیں تو یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے نہ ہوں۔خدا ہمیں رحم دل، متقی اور دیانتدار بنائے ، ہم احسان کرنے والے ہوں کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو ایک سیاہی کو مٹا کر دوسری لگا لینے سے دنیا کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔پس اس بات کی کیلئے خصوصیت سے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ جماعت کا روحانی معیار بلند کر دے۔ابھی کئی لوگ