خطبات محمود (جلد 17) — Page 210
خطبات محمود ۲۱۰ سال ۱۹۳۶ء جماعت میں ایسے ہیں کہ جن میں اور غیروں میں مجھے کوئی فرق نظر نہیں آتا۔جھوٹ ، خیانت ،ظلم، حق تلفی سے انہیں گریز نہیں۔وہ دوستوں کیلئے جھوٹ بول دیتے ہیں اور بندہ کی دوستی کیلئے خدا کی نی دوستی کو قربان کر دیتے ہیں اور اگر یہ چیزیں قائم رہیں تو خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ موجودہ نقشہ کو تباہ کر دے بلکہ ہمارے مخالف ہم سے زیادہ ہیں اور اگر دونوں ایک ہی قسم کے ہوں تو پھر زیادہ تعدا دوالوں کا زیادہ حق ہے کہ انہیں قائم رکھا جائے۔سوان دنوں میں خدا تعالیٰ سے بہت دعائیں کرو اور عجز و انکسار سے اس کے حضور جھک جاؤ۔نہ صرف پیر کے دن بلکہ ہر روز دعائیں کو۔جہاں امام ایسا نہ ہو جو نمازوں میں تلاوت کے ساتھ دعائیں پڑھ سکے وہاں دوسرے وقت میں مل کر دعا کا انتظام کر لو اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ای علیحدہ علیحدہ دعائیں کرو مگر کوئی دن ایسا نہ گزرے جب دعا نمایاں شکل میں سامنے نہ آچکی ہوتی اور اگر اس طریق سے دعائیں کی جائیں تو مجھے یقین ہے کہ ہر گز خالی نہ جائیں گی۔پچھلے سال اس کا تجربہ ہم کر چکے ہیں ادھر دعا کے ایام کا خاتمہ ہوا اور اُدھر کوئٹہ میں زلزلہ آیا اور پھر مسلسل تباہیاں آتی رہیں تا کہ دشمن کو بیدار کر دیں مگر افسوس کہ اس سے کسی نے فائدہ نہیں اُٹھایا۔اور مجھے یقین ہے ہے کہ اگر آپ لوگ یہ دن غفلت میں نہ گزاریں گے اور عاجزانہ طور پر خدا کے حضور جھکیں گے تو ی اللہ تعالیٰ دونشانوں میں سے ایک ضرور دکھائے گا۔یا تو وہ ان کو ہدایت دے دے گا یا انہیں ہلاک کر دے گا دونوں میں سے ایک بات ضرور ہوکر رہے گی۔اللہ تعالیٰ رحمت کا نشان دکھائے یا غضب کا اگر تمام احمدی عجز اور انکسار سے دعاؤں میں لگے رہیں تو دشمن کے حالات کے مطابق ان کی دونوں باتوں میں سے ایک کو ضرور معتین کرا کر رہیں گے۔اگر وہ نیکی کی طرف جھکے گا تو رحمت کا لی نشان ظاہر ہو گا اور اگر ضد میں بڑھے گا تو غضب کا۔پس آؤ اس رحمت کے دروازہ میں جو خدا نے کھولا ہے داخل ہو جاؤ جو سوائے تمہارے کسی کو میسر نہیں۔آج اجابت دعا کے دروازے صرف تمہارے لئے ہی کھولے گئے ہیں اور کسی کیلئے کی نہیں ، قبولیت کے فرشتے تمہارے لئے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں مگر دوسروں کیلئے ان کی مٹھیاں بندی ہیں۔اس طاقت اور قوت کو حقیر مت سمجھو جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دی ہے۔آسمان سے تمہاری کامیابی کے احکام جاری ہو چکے ہیں۔اگر ہمت اور استقلال سے کام لو گے ، خدا کے حضور عجز اور ای