خطبات محمود (جلد 17) — Page 208
خطبات محمود ۲۰۸ سال ۱۹۳۶ء کے ماننے والوں کو دکھ پہنچاتا ہے تا ان کی نیکی اور مخالفوں کی بدی ظاہر ہو جائے۔گویا اللہ تعالیٰ ایک طرف مؤمنوں کا امتحان لیتا اور دوسری طرف ان کے مخالفوں کی بُرائیوں کو ظاہر کرتا ہے پس ان کی طرف سے جو مخالفت ہوتی ہے اس میں ایک حصہ جبر کا بھی ہوتا ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ ان تکالیف کا موجب کچھ ہمارا اپنا قصور بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم کو پاک کرے۔ہم میں سے اگر کوئی بد معاملہ ہو تو دشمن سمجھتے ہیں کہ یہ سب ٹھگ ہیں، کوئی جھوٹ بولتا ہے تو مخالف کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ چاہتا۔کہ اس طرح ہماری کمزریوں کو دور کرے۔یہ بات بھی ایسی ہے جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے اور ان تین باتوں کی موجودگی میں ہمارا فرض ہے کہ پہلے مخالفوں کیلئے دعا اور پھر بدعا کریں۔پہلا کام ہمارا یہ ہے کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کی ان کو ہدایت دے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہ کر بیت الدعا کے اوپر ایک کمرہ اپنے لئے بنوایا تھا کہ وہ بھی اس میں دعا کیا کریں گے۔آپ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ میں اس میں دعا کر رہا تھا کہ مجھے نیچے سے اس طرح کی آواز آئی جیسے کوئی عورت در دزہ سے بیتاب ہو کر روتی ہے۔وہ کہتے ہیں میں نے کان لگا کر سنا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہایت زاری سے دعا کر رہے ہیں۔وہ طاعون کے دن تھے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب فرماتے ہیں کہ انہوں نے سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہہ رہے تھے الہی ! اگر یہ قوم طاعون سے ہلاک ہوگئی تو مجھ پر ایمان کون لائے گا ؟ یہ ہمارے سردار کا رویہ ہے پس ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم ڈوبنے والے کو بچائیں اور مرنے کی والے کو زندہ کرنے کی کوشش کریں۔غیظ و غضب سے اتنے متاثر مت ہو کہ یہی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کا بیڑا غرق کر دے بلکہ پہلے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور بچالے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ سب انسان ایک آدم کی اولاد ہیں مگر لوگوں نے اس برادری کو بھلا دیا تھی اس لئے غیریت پیدا ہوگئی اگر تم اس کا خیال رکھو تو پھر یہ احساس بھی تمہیں ہو جائے گا کہ اپنے بھائیوں کو کون مرواتا ہے۔مکہ کے کفار مسلمانوں کے کتنے دشمن تھے مگر اس برادری کا خیال ان پر بھی غالب تھا۔