خطبات محمود (جلد 17) — Page 198
خطبات محمود ۱۹۸ سال ۱۹۳۶ء اندر رہ کر کریں گے یہاں تک کہ انگریزوں کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان باتوں میں کوئی حرج نہیں اور اگر وہ ہم کو ان ذرائع کے اختیار کرنے سے روکیں تو ملک میں بھی شورش بر پا ہو جائے گی اور ی دنیا میں بھی ان کی بدنامی ہو گی۔انگریزی فطرت کو ہم جانتے ہیں وہ کھلی بے انصافی کو کبھی برداشت نہیں کر سکتی۔پس ہم اس سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ وہ خود ہی قانون بنائے اور ان کے اندرکی رہ کر کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر کے بے انصاف بن جائے۔پس میں پھر ایک طرف حکومت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ انصاف سے کام لے اور ان فتنہ انگیزیوں کو روکنے کی طرف متوجہ ہو اور دوسری طرف جماعت سے بھی کہتا ہوں کہ وہ زیادہ ترا نوکریوں کی طرف توجہ نہ کرے بلکہ تجارت، زراعت اور صنعت و حرفت کے کاموں کو اختیاری کرے۔مگر بعض بیوقوف ایسے ہیں جو اب تک مجھے لکھتے رہتے ہیں کہ فلاں افسر کے پاس ہماری سفارش کر دیں۔نہ معلوم وہ لوگ میرے خطبے پڑھتے ہیں یا نہیں پڑھتے ، اور اگر پڑھتے ہیں تو سمجھتے ہی کیوں نہیں۔میں متواتر جماعت کو بتارہا ہوں کہ حکومت کے بعض افسر ہمارے امن کو برباد کر رہے ہیں ، وہ ہماری کسی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ ہمیں نقصان پہنچانے اور ہماری طاقت کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ احمق مجھے لکھتے ہیں کہ ہماری سفارش کر دیں۔میں نے تم کو وہ راستہ بتا دیا ہے جس پر تم اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہو اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور گر و اور اس سے دعائیں کرو۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اس پیر سے روزے رکھو مگر معلوم نہیں تمہیں کیا عادت ہوگئی ہے ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی بجائے بندوں کے پاس جانا پسند کرتے ہو۔میں تمہیں نوکریوں سے منع نہیں کرتا بے شک تم اچھی سے اچھی ملازمت کیلئے کوشش کروی لیکن یہ سمجھ لو کہ سب لوگوں کو نوکریاں نہیں مل سکتیں اس لئے علاج یہی ہے کہ تم اپنا رزق خدا سے کی مانگو۔وہ معمولی معمولی کاموں میں بھی بعض دفعہ اتنی ترقی دے دیتا ہے کہ لوگ رشک کی نگاہوں کی سے دیکھنے لگ جاتے ہیں۔پس تم قربانیوں کیلئے تیار ہو جاؤ اور اس بات پر آمادہ رہو کہ اگر تمہیں بھوکا رہنا پڑے، پیاسا رہنا پڑے، ننگا رہنا پڑے تب بھی تم ان تکالیف کو برداشت کرو گے۔یہ روح پیدا کرو گے تو اللہ تعالیٰ غیب سے خود بخود تمہارے لئے کئی رستے کھول دے گا۔تام چینی کے برتن جس شخص نے بنائے ہیں وہ پہلے نواب تھا لاکھوں روپیہ کا مالک تھا مگر