خطبات محمود (جلد 17) — Page 194
خطبات محمود ۱۹۴ سال ۱۹۳۶ء کر دیں۔میں نہیں جانتا اس معاملہ میں انگریزی حکومت کا کیا دستور ہے لیکن چار پانچ دن ہوئے حکومت پنجاب کے ہوم سیکرٹری نے کونسل میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم عدالت کے معاملات میں کبھی دخل نہیں دیتے۔میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر عدالت کے معاملات میں دخل نہیں دیا جاتا تو اس کے کیا معنے ہیں کہ ایک مقدمہ ایک عدالت میں چل رہا ہے اور فیصلہ سے کی پہلے ہی اس کی مسل منگوالی جاتی ہے اور گواہوں کو بھی بلایا جاتا اور ان پر اثر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے ہے۔اگر اس سے مقصد میری بدنامی ہے تو وہ ہو نہیں سکتی۔باقی مجھے بھی اس کا علاج کرنا آتا ہے اور ی میں اس کوشش کیلئے مجبور ہوں گا کہ اگر یہ بات سچ ہے تو یا حکومت مجھ پر مقدمہ چلائے یا مجھے اور اُس کی افسر کو جس نے یہ حرکت کی ہے قسم کھلائے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں وہ عقلیں دی ہیں جن کے ماتحت قانون کے اندر رہتے ہوئے ہم گورنمنٹ کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی صفائی پیش کرے۔یہ ہمارا رحم ہے جو ہم نے ابھی تک اس قسم کی کوشش شروع نہیں کی ورنہ نہ ہم قید سے ڈرتے ہیں نہ پھانسیوں سے کیونکہ مؤمن سے بڑھ کر اور کوئی بہادر نہیں ہوتا۔ممکن ہے گورنمنٹ بعض حالات میں ہمیں مجرم سمجھ لے اور قید کر دے مگر جب ہم سے بالا لوگ قید ہو چکے ہیں تو ہمیں قید سے کیا ڈر ہوسکتا ہے ہے۔بلکہ اگر حکومت کے بعض افسر ایسے حالات اختراع کر دیں جن کے نتیجہ میں پھانسی کی سزا ملتی ہے ہو تو بھی ہم کو کیا خوف ہو سکتا ہے کیونکہ ہم سے بالا لوگ بھی لٹکائے جاچکے ہیں۔مؤمن جانتا ہے کہ جس وقت خدا تعالیٰ نے اُسے اُٹھانا ہوگا اُٹھا لے گا اور وہ اُسی وقت اُٹھائے گا جب وہ کام ہو جائے گی گا جو اُس نے اپنے بندہ سے لینا تھا اور جب کام ہو چکے تو پھر مؤمن کو اپنی موت سے کیا ڈر ہو سکتا ہے ہے۔ہم جب دنیا میں ایسی آگ لگا جائیں جو گفر اور شرک کوخس و خاشاک کی طرح جلا کر راکھی کر دے، جب ہم دنیا میں وہ آگ لگادیں جو شیطنت کو بھسم کر دے تو اس کے بعد اگر ہم دنیا سے اٹھا لئے جاتے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے۔دنیا میں کون ایسا انسان ہے جو ہمیشہ رہا۔ہمارا منشاء تو شیطان کی عمارت کو ایک آگ لگانا ہے جب وہ آگ لگ جائے تو پھر خدا تعالیٰ کی مشیت چاہے کتی قید کی صورت میں آجائے یا پھانسی کی صورت میں، خواہ معمولی موت کی صورت میں ہمیں اس سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جو کام ہمارے سپرد کیا گیا تھا وہ ختم ہو گیا۔