خطبات محمود (جلد 17) — Page 172
خطبات محمود ۱۷۲ سال ۱۹۳۶ء ربھی زیادہ نمایاں صورت اختیار کر لیتا ہے۔میں نے اس واقعہ کا کبھی اظہار نہیں کیا کیونکہ اس کے نتیجہ میں بعض لوگوں پر حرف آتا ہے لیکن اب جبکہ ایک اخبار میں یہ واقعہ پچھپ چکا ہے میں مجبور ہوں کہ اس واقعہ کو بیان کروں۔واقعہ یہ ہے کہ دو تین جگہ سے مجھے اطلاع ملی کہ بعض لوگ جن کے نام میں ظاہر کرنا نہیں چاہتا منٹگمری، امرتسر اور ایک اور ضلع کے لوگوں سے سر ہنری کریک کی تائید میں دستخط کرا رہے ہیں تا ایک میموریل بھیجا جائے کہ آئندہ گورنر سر ہنری کر یک کو مقرر کیا جائے۔سر ہنری کر یک ان افسروں میں ނ میں ہیں جن کو ہماری جماعت سے بہت قریب کے زمانہ سے تعلق پیدا ہوا۔پیدا ہوا ہے۔پہلے پہل شملہ ۱۹۳۱ء میں میری ان سے ملاقات ہوئی۔جب تک وہ پنجاب میں رہے میں نے ہمیشہ انہیں ایک صاف گو دوست پایا اور جب کبھی ان سے کوئی کام پیش آیا مجھے نہیں یاد کہ انہوں نے ہمیں کبھی مایوس کیا ہو۔جاتی دفعہ انہوں نے مجھے جو بھی لکھی اُس میں انہوں نے صاف طور پر تسلیم کیا کہ جماعت احمدیہ کی وفا داری اور امن پسندی کا اُن کے دل پر گہرا اثر ہے اور یہ امران کی تمام عمر کے دی تجربہ سے ثابت شدہ ہے، مگر سر ہنری کریک سے بھی پہلے ہم موجودہ گورنر صاحب کو جانتے تھے ان کی کے تعلقات بھی ہمارے ساتھ دوستانہ تھے۔جب یہ پنجاب میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے اُس وقت بھی ہمارے ان سے اچھے تعلقات تھے۔گورنمنٹ آف انڈیا میں گئے تب بھی ہم نے انہیں کبھی اپنا تھی بدخواہ نہیں پایا ایسی صورت میں افراد کو مد نظر رکھتے ہوئے ادھر ذہن منتقل ہی نہیں ہو سکتا تھا کہ ہم ایک کی تائید کرتے اور دوسرے کی مخالفت۔لیکن ایک بات ایسی تھی جس کی وجہ سے اس میں دخل دینا ہمارے لئے ضروری تھا اور وہ یہ کہ اس وقت بڑے بڑے انگریز افسروں کے متعلق ہندوستان کی کے لوگوں کے دلوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ وہ جنبہ داری نہیں کرتے اور نہ ان میں پارٹیاں ہوتی ہیں۔اب اگر دستخطوں کا مرض پھیل جاتا تو پنجاب کے زمیندار طبقہ کے دل میں یہ احساس پیدا نی ہو جاتا کہ انگریزوں میں بھی پارٹیاں ہوتی ہیں اور وہ بھی انصاف اور عدل کے ماتحت تقرریاں نہیں کرتے بلکہ ان میں بھی ایک دوسرے کی طرفداری کی جاتی ہے اور اس طرح انگریزی حکومت کو ای پنجاب میں اتنا نقصان پہنچتا کہ کانگرس بھی اتنا نقصان حکومت کو نہیں پہنچا سکی کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان پر انگریزوں کی فوجیں حکومت نہیں کر رہیں بلکہ انگریزوں کا رُعب حکومت کر رہا ہے۔