خطبات محمود (جلد 17) — Page 171
خطبات محمود KI سال ۱۹۳۶ء وہاں سے نکال دیا گیا جہاں سے وہ حکومت کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔غرض ہم نے حکومت برطانیہ کی مدد کے ساتھ اس امر کا بھی ہمیشہ خیال رکھا ہے کہ اپنے اہل ملک کی بھی خیر خواہی کریں اور کبھی جاسوسی کا کام نہیں کیا۔جس شخص کا میں نے ذکر کیا ہے کہ اُس کا معاملہ استثنائی ہے اس کے بارہ میں بھی ہم اس لئے مجبور ہو گئے کہ ہم اس کو سمجھا نہیں سکتے تھے تے ور نہ ہمارا یہ اصول ہے کہ اصلاح کی کوشش کرتے ہیں نہ کہ نقصان پہنچانے کی۔یہ چند مثالیں ان بہت سی خدمات کی ہیں جو ہم نے حکومت کے فائدہ کیلئے کی ہیں مگر نہ تو ی حکومت نے ہماری قدر کی اور نہ قوم نے ہماری قدر کی حالانکہ نہ ہم نے کبھی ملک سے غداری کی کی اور نہ حکومت کے کسی حکم کی خلاف ورزی کی اور نہ اس کے خلاف بغاوت کا راستہ اختیار کیا مگر باوجود اس کے حکومت نے بھی ہمیں بُرا سمجھا اور قوم نے بھی۔پس ہر منصف مزاج انسان اگر ای انصاف سے دیکھے تو اسے ہماری امن پسندی کے جذبات کا قائل ہونا پڑتا ہے لیکن افسوس ہے کہ ہمیں گزشتہ دو سال کے عرصہ سے نہایت ہی تلخ تجربہ ہورہا ہے اور کسی ایسے قصور کی وجہ سے جس کا ہمیں علم نہیں ہمارے خلاف بعض حکام کا رروائیاں کر رہے ہیں۔ہم نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح پتہ لگے ہمارا جرم کیا ہے مگر ہمیں جُرم کا پتہ نہیں لگا اس لئے کہ جب حکومت کے افسروں سے ملاقات کی کی جاتی اور اُن سے دریافت کیا جاتا ہے تو ہ کہہ دیتے ہیں ہم تو ناراض نہیں۔پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ جب وہ ناراض نہیں تو یہ کارروائیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ پھر بعض باتیں جو لوگ بناتے ہیں وہ اتنی مضحکہ خیز ہیں کہ انہیں ماننے کیلئے طبیعت تیار ہی نہیں ہوتی۔مثلاً پچھلے دنوں لاہور کے ایک اخبار میں دہلی کے ایک نامہ نگار کا ایک مضمون چھپا تھا تی کہ ہز ایکسی لینسی گورنر پنجاب احمدیوں سے اس لئے ناراض ہیں کہ ان کے تقرر سے پہلے احمدیوں نے سر ہنری کریک کے متعلق گورنر بننے کی کوشش کی اور ان کیلئے پنجاب میں لوگوں سے دستخط لئے۔یہ اتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ اس کو ناراضگی کی وجہ قرار دینے کیلئے دل تیار نہیں کیونکہ اگر آپس میں اختلاف ہو بھی جائیں تو یہ ہم تسلیم نہیں کر سکتے کہ اختلاف کے بعد دوسرے کی ذہانت اور قوت فکر بھی کم ہو جاتی ہے۔پس اول تو کوئی فہیم انسان اسے ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوسکتا لیکن جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ واقعات اس کے بالکل الٹ ہیں جو ظاہر کئے گئے ہیں تو اس بات کا مضحکہ خیز ہونا اور