خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 170

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء سے ملنے گیا۔ابھی ایک منٹ ہی اُسے بات کرتے گزرا تھا کہ یکدم وہ یہ سن کر حیران رہ گیا کہ وہ انگریز ڈپٹی کمشنر اس سے کہہ رہا ہے ” ہینڈ ز اپ“۔یعنی ہاتھ کھڑے کر دو۔یہ الفاظ عموماً اس وقت کہے جاتے ہیں جب کوئی چور، ڈاکو یا قاتل سامنے آجائے اور یہ خیال ہو کہ وہ حملہ کر دے گا اُس وقت فوراً پستول دکھا کر اور ہینڈز اپ کہہ کر تلاشی لی جاتی ہے۔اس بے چارے نے بھی حیران ہو کر ہاتھ اونچے کر دئیے اور ڈپٹی کمشنر نے پستول سامنے رکھ کر اُس کی تلاشی لینی شروع کر دی۔جب تلاشی کے بعد کوئی چیز نہ نکلی تو اُس نے پوچھا آپ نے تلاشی کیوں لی تھی ؟ وہ کہنے لگا میں نے کی سمجھا تم کوئی انارکسٹ ہو۔بعد میں دوسرے موقع پر ایک اور انگریز افسر جو فوج میں کرنیل تھا اسے اپنے ساتھ لے کر ڈپٹی کمشنر کے پاس گیا اور بتایا کہ یہ تو بغاوت کے مٹانے کیلئے یہاں کام کر رہا تھا تے آپ اس سے گھبرا کیوں گئے۔یہ زیادہ دور کی بات نہیں قریب کے عرصہ میں یہ واقعات ہوا کرتے تھے مگر ہم نے ان واقعات کو دُور کرنے کی کوشش کی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت حد تک کامیاب ہوئے۔اس کے ساتھ ہمارا رویہ اپنے ملک کے ساتھ ہمدردانہ رہا کیونکہ ہم نے مُجرم نہیں پکڑوائے بلکہ ان کی کیا اصلاح کی کوشش کی اور جب ہمیں معلوم ہوا کہ کوئی شخص باغیانیہ خیالات رکھتا ہے تو ہم نے اُس کے جی خیالات کو دور کیا ہے۔چنانچہ کئی انارکسٹ تھے جنہوں نے ہماری کوششوں کی وجہ سے اپنے خیالات کو بدل دیا۔ہماری جماعت میں بھی بعض لوگ موجود جو پہلے انتہا پسند تھے مگر سمجھانے کے بعد اُن کی جی اصلاح ہوگئی اور وہ جماعت میں شامل ہو گئے۔پھر ایسے بھی لوگ ہیں جو اگر چہ ہماری جماعت میں شامل نہیں مگر اس قسم کے خیالات سے انہوں نے ہماری وجہ سے تو بہ کر لی۔تو ہمارا جہاں یہ طریق ہے کہ ہم ملک سے فتنہ و فساد دور کرتے ہیں وہاں ہمارا یہ کبھی طریق نہیں ہوا کہ ہم مجرموں کے نام گورنمنٹ پر ظاہر کریں اور انہیں پکڑوانے کی کوشش کریں۔سارے سلسلۂ خدمات میں صرف ایک شخص کا نام ہم نے گورنمنٹ کے سامنے پیش کیا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ وہ ہندوستان میں نہیں تھا بلکہ ہندوستان سے باہر کسی اور ملک میں تھا اور ہم اس کو سمجھا نہیں سکتے تھے۔وہ حکومت انگریزی کے خلاف ایک بہت بڑی سازش کر رہا تھا جب اس کے نام سے حکومت کو اطلاع دی گئی تو پہلے فارن سیکرٹری نے اپنی بے بسی کا اقرار کیا لیکن آخر اس حکومت کی معرفت جس میں وہ رہتا تھا اُ۔ނ