خطبات محمود (جلد 17) — Page 161
خطبات محمود ۱۶۱ سال ۱۹۳۶ء عادت کی وجہ سے نہ مذہب کو یاد رکھ سکتا ہے نہ مصلحتوں اور ضرورتوں کو۔یا بعض دفعہ منافق سخت کلامی کرتے ہیں اور ان کی اصل غرض جماعت کو بدنام کرنا ہوتی ہے۔پس ہمیشہ یہ تین قسم کے لوگ ہی جماعت میں سے سختی کرتے ہیں لیکن ہمارا رویہ ان کے متعلق ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ہم ان کی باتوں پر گرفت کرتے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔اگر غفلت سے سخت کلامی ہو تو تب بھی ہم گرفت کرتے اور اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور اگر عادتا سخت کلامی ہو تب بھی ہم گرفت کرتے اور اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کوئی منافقت۔کرے تب بھی اسے سمجھایا جاتا یا اخبار والوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ کیوں ایسے لوگوں کے مضامین شائع کرتے ہیں جن کی اصل غرض ہم پر الزام قائم کرنا ہے ان استثنائی صورتوں کے علاوہ ہماری جماعت کا عام رویہ یہ ہے کہ ہم دوسری قوموں کے متعلق ادب اور احترام کے مقام پر کھڑے ہوں ی اور ہم کہتے ہیں کہ کسی دوسری قوم کا دل نہیں دُکھانا چاہئے۔ہمارے ہاں کثرت سے ایسی مثالیں موجود ہیں جبکہ دوسروں کے ہاں ایک بھی مثال موجود نہیں کہ جب ہم میں سے کسی نے غیر اقوام کے متعلق سخت کلامی کی تو ہم نے اُسے ڈانٹا اور سزا دی۔اس وقت تک تین رسالوں کو میں اس جرم کی میں ضبط کر چکا ہوں اور کئی دفعہ اخبارات والوں کو ڈانٹ چکا ہوں بلکہ اخباروں میں اس کا ذکر بھی جی آچکا ہے اور میں سمجھتا ہوں کوئی دوسری قوم اپنے میں سے ایک بھی ایسی مثال پیش نہیں کر سکتی بلکہ دوسری قوموں میں جب کسی سے غلطی ہو جاتی ہے تو وہ ہمیشہ اُس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔گزشتہ پندرہ بیس سال کی تاریخ دنیا میں موجود ہے اس پر غور کر کے دیکھ لو جب کسی اور قوم کے کسی فرد نے اس قسم کی غلطی کی یعنی غیر مذاہب والوں کے متعلق سخت کلامی کی تو آیا اُس قوم کے لوگوں نے بحیثیت قوم اس کے متعلق اظہار ناراضگی کیا ؟ اس میں شبہ نہیں کہ بعض افراد یا بعض شہروں نے ان پر اپنی ناراضگی اور نفرت کا اظہار کیا مگر وہ بحیثیت جماعت نہ تھا بلکہ بحیثیت افرادی تھا۔اگر سارے ہندوستان کے ہندوؤں میں سے کسی ایک شہر کے ہندوؤں نے کسی ہندو کے فعل پر اظہار نفرت کر دیا یا کروڑوں مسلمانوں میں کوئی ایک شخص ایسا کھڑا ہوا جس نے کسی مسلمان کی سختی کی کے خلاف آواز بلند کر دی تو یہ جماعت کا فعل نہیں کہلا سکتا بلکہ افراد کا فعل ہے۔لیکن ہماری طرف کی سے ہمیشہ ایسی سختی کے خلاف جو قوموں میں تنافر پیدا کرنے والی ہو مِنْ حَيْثُ الْقَوْمِ آواز اُٹھائی