خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 79

خطبات محمود ۷۹ سال ۱۹۳۶ء بیل کا لفظ جب کوئی بولے تو ایک خاکہ سا تو ہر انسان کے ذہن میں آجاتا ہے لیکن صرف ماہر فن ہی ہے بیل کا لفظ سن کر اس کی مختلف اقسام اور ان کے فوائد اور خصوصیات کو ذہن میں لاسکتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ میں ایک دفعہ بہشتی مقبرہ کی طرف سے واپس آرہا تھا کہ رستہ میں میں نے کچھ بیل دیکھے جو مجھے بتایا گیا کہ یہ بیچنے کیلئے ہیں۔میرے ساتھ ایک اور دوست تھے میں نے ان سے کہا کہ بیلوں والے سے ذرا دریافت کریں کہ ان بیلوں کی اوسط قیمت کیا ہے ؟ اور اوسط معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ادنیٰ سے ادنی اور بڑی سے بڑی قیمت کا اندازہ کر لیا جائے لیکن وہ دوست ان باتوں سے ناواقف تھے اس لئے انہوں نے جا کر بیلوں والے سے پوچھا کہ ایک بیل کی کیا قیمت ہے؟ اس پر اُس نے جواب دیا کہ آپ کون سے بیل کی قیمت معلوم کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایک بیل کی قیمت بتا دو۔اُس نے پھر پوچھا کہ کون سے بیل کی ؟ انہوں نے پھر وہی سوال دہرا دیا کہ کہہ تو رہا ہوں ایک بیل کی کیا قیمت ہے؟ اس پر بیل کا مالک بولا کہ میں کس بیل کی بتاؤں ؟ اس گلہ میں ایک سو کا بھی بیل ہے اور دواڑھائی سو قیمت والا بھی۔اس پر میں نے بھی اُس دوست کو سمجھایا کہ سب بیلوں کی ایک قیمت نہیں ہوتی۔پوچھنا یہ چاہئے تھا کہ کس قیمت سے لے کر کس قیمت تک کے بیل ہیں مگر آپ جس رنگ میں پوچھ رہے ہیں اس کا وہ کیا جواب دے۔وہ ایک قیمت بتادے اور آپ اچھے سے اچھا بیل منتخب کر کے کہیں کہ یہ اس قیمت میں دے دو۔غرض جس طرح حیوانات اور جمادات اور نباتات کی قیمتیں ہوتی ہیں اسی طرح اخلاق کی بھی کئی اقسام ہوتی ہیں اور ہر قسم پھر کچھ مدارج اور ممتاز کیفیات رکھتی ہے۔مثلاً محبت ہے یہ جذبہ بھی اپنے اندر بہت سے اختلاف رکھتا ہے۔میں اس وقت محبت پر کوئی مضمون بیان نہیں کر رہا صرف ایک موٹی بات بیان کرتا ہوں کہ بعض لوگ بچوں پر جان قربان کر دیتے ہیں۔یہ بھی محبت کی ایک قسم ہے لیکن وطن ، حکومت اور مذہب کیلئے قربانی کا سوال ہو تو وہ کوئی پرواہ نہ کریں گے۔اسی طرح بعض لوگ محبت کی وجہ سے مالی قربانی کیلئے تیار ہو جائیں گے مگر جانی قربانی نہیں کرسکیں گے۔یا جانی قربانی کیلئے تو تیار ہوں گے مگر مالی قربانی کیلئے قطعاً تیار نہیں ہوں گے۔جس سے معلوم ہوا کہ محبت کے بھی کئی مقام ہوتے ہیں جہاں کھڑا ہو کر انسان نئی قسم کا نظریہ حاصل کرتا ہے۔پس ہم جب محبت