خطبات محمود (جلد 17) — Page 746
خطبات محمود ۷۴۶ سال ۱۹۳۶ اپنی خالقیت کے اظہار کیلئے نہیں بلکہ مخلوق پر ترتم اور شفقت کرنے کیلئے انہیں وہ راستہ دکھا جو انہیں تیرے قُرب تک پہنچانے والا ہو اور جس کے نتیجہ میں تیری بادشاہت دنیا پر قائم ہو جائے تا بنی نوع انسان تیرے نور سے منور ہو جائیں ، ان کے دل روشن ہو جائیں ، ان کی آنکھیں چمک اُٹھیں اور ان کے ذہن تیز ہو جائیں۔سوکل کی رات کو بھی صرف ایک ہی بات پر تان تو ڑنی چاہئے اور جتنا بھی کسی کو جاگنے کی توفیق ملے اس میں صرف ایک ہی دعا مانگنی چاہئے اس رات میں بھی نہ اپنے لئے دعا کی جائے ، نہ اپنے بیوی بچوں کیلئے دعا کی جائے ، نہ مقدمہ میں کامیابی کیلئے دعا کی جائے ، نہ مال کیلئے دعا کی جائے ، نہ عزت کیلئے دعا کی جائے ، نہ ترقیات کیلئے دعا کی جائے ، نہ اپنوں کیلئے دعا کی جائے ، نہ پرایوں کیلئے دعا کی جائے صرف یہ دعا کی جائے کہ خدا کی خدائی عالم میں قائم ہو اور اس کے جلال کا دنیا پر ظہور ہو۔پس آؤ کہ ہم اپنی تین سو ساٹھ راتوں میں سے دو راتیں ان دعاؤں کیلئے وقف کر دیں یقیناً یہ ایک نیا تجربہ اور کامیاب تجربہ اور مفید تجربہ ہوگا۔حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ تمہارے سامنے ہے ان سب نے ایک بات مانگی اور سارا دن مانگی اور خدا نے ان کی دعا کو قبول کیا۔انہوں نے عذاب کے آنے کے بعد دعا مانگی ، ہم عذاب کے آنے سے پہلے دعا کریں گے انہوں نے دن کو مانگی ہم رات کو مانگتے ہیں اور یقیناً ہماری دعا ان سے زیادہ بھاری ہوگی کیونکہ دن کی دعا سے رات کی دعا بھاری ہوتی ہے اور عذاب آنے کے بعد کی دعا سے عذاب آنے سے پہلے کی دعا جلدی قبول ہوتی ہے۔پس آؤ کہ ہم ان دو مقاصد کیلئے اپنی راتوں میں سے دو راتیں وقف کر دیں۔ایک رات اپنے لئے اور ایک رات خدا کیلئے وقف کر دیں تا خدا کا عشق اور اس کا عفو تام ہمیں میسر آجائے اور توبہ نصوح کی ہمیں توفیق ملے۔دوسری رات ہماری دعا یہ ہو کہ خدا کا جلال اور اُس کی حکومت دنیا پر قائم ہو اور اس کی شان عالم پر ظاہر ہو۔گویا ایک رات دعا سلب کی ہو اور دوسری رات جذب کی۔ایک رات ہم دور کریں اپنے قلوب سے ہر قسم کی بدی کو اور دوسری رات کھینچیں اُس کے نور اور محبت کو۔ایک رات دور کریں تاریکی کو اور دوسری رات جذب کریں اُس کے نور کو۔جہاں جہاں اخبار الفضل ، گل پہنچے وہ گل ہی دعاؤں میں قادیان والوں کے