خطبات محمود (جلد 17) — Page 741
خطبات محمود ۷۴۱ سال ۱۹۳۶ سامنے سے ہٹا، کچھ وہ یہ مانگتا ہے کہ مجھ پر بہت قرض ہو گیا ہے اُسے اُتار۔غرض وہ دعا کو گڈ مڈ کر دیتا ہے اسی طرح جس طرح بابل پر جب عذاب آیا تو وہاں کے رہنے والے متفرق زبانیں بولنے لگ گئے اور یہ تو انفرادی دعاؤں کی حالت ہے میں نے دیکھا ہے نہایت اہم اور نازک اوقات میں بھی جب دعا کے لئے تمام دوست اکٹھے ہوتے ہیں تو چاروں طرف سے آوازیں آنی شروع ہو جاتی ہیں کہ میری بیوی بیمار ہے اس کے لئے دعا فرما ئیں، مجھ پر قرضہ زیادہ ہے اس کے لئے دعا فرمائیں ، میرے بچوں کی ترقی اور اقبال مندی کے لئے دعا کریں ، ان کی یہ حالت دیکھ کر بالکل اُس مثال کا خیال آجاتا ہے جو ہمارے ملک میں ایک زمیندار کے متعلق مشہور ہے اور گو وہ ہنسی کی بات ہے لیکن یہ بتانے کے لئے کہ بے موقع بات ہمیشہ بُری لگتی ہے سنا دیتا ہوں۔کہتے ہیں کوئی زمیندار تھا جو شہر کے پاس ہی دست بارہ میل کے فاصلہ پر رہتا تھا لیکن شہر میں وہ کبھی نہیں گیا تھا۔لوگ اُس سے پوچھتے کہ کیا تم نے کبھی شہر نہیں دیکھا ؟ وہ خاموش ہو جاتا اور شرمندگی میں کچھ جواب نہ دے سکتا۔آخر ایک دن اُسے خیال آیا کہ میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں آج شہر تو جا کر دیکھ آؤں۔اُس نے گھر سے کچھ آٹالیا اور کپڑے میں باندھ کر شہر کو چل پڑا تا جس وقت وہاں بھوک لگے تو کسی عورت سے کہہ کر روٹی پکوا لے۔اُس نے خیال کیا کہ جس طرح گاؤں میں عورتیں باہر پھرتی رہتی ہیں اسی طرح شہر میں بھی پھرتی ہوں گی اور اُن میں سے کسی کو کہہ کر روٹی پکوالوں گا۔جب وہ شہر میں گیا تو اُس نے دیکھا کہ گھروں کے دروازے بند ہیں اور عورتیں باہر چلتی پھرتی نہیں۔وہ گلیوں اور بازاروں میں پھرتا رہا اُسے سخت بھوک لگی ہوئی تھی مگر اُسے کوئی عورت ایسی دکھائی نہ دی جسے کہہ کر وہ اپنی روٹی پکواسکتا۔آخر عصر کا وقت آگیا اور وہ ایک حلوائی کی دکان پر سے گزرا جوئچیاں تک رہا تھا وہ دُکان پر کھڑا ہو گیا اور تھوڑی ہے دیر تک اُسے دیکھتا رہا آخر اس سے نہ رہا گیا اور حلوائی سے پوچھنے لگا بھئی یہ کیا پکار رہے ہو؟ اُس نے کہانچیاں تل رہا ہوں اُس نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے کپڑے کی گرہ کھولنی شروع کی اور جو آنا اُس نے روٹی پکوانے کیلئے باندھ رکھا تھا اُسے یہ کہتے ہوئے کڑاہی میں ڈال دیا کہ ” میرا بھی نیچ پائے۔اُس نے سمجھا کہ جب یہ چھوٹی چھوٹی کچیاں کہلاتی ہیں تو میرا زیادہ آٹا لیچ بن جائے گا۔یہی حال اُن لوگوں کا ہوتا ہے۔کیسا ہی اہم موقع ہو وہ اپنی بات ضرور کر دیتے ہیں اور نہیں سمجھتے