خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 732 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 732

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۷۲۳ سال ۱۹۳۶ء صلى الله عروسه ۔ تھا مگر خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جسے توفیق ہو وہ کم سے کم ایک دفعہ حج ضرور کرے؟ آپ نے فرمایا ہاں، اسی طرح غالباً زکوۃ کے متعلق بھی اُس نے پوچھا اور ساتھ ساتھ قسم بھی دیتا جاتا تھا آخر سب کچھ و سن کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم! یہ میں ضرور کروں گا مگر اس سے زیادہ نہیں ۔ اس پر رسول کریم ! نے فرمایا کہ اگر اس نے اپنی قسم کو پورا کیا تو جنت میں جائے گا سے ۔ تو وہ مومن تو تھا بیوقوف مؤمن تھا۔ ابوبکر نے کبھی ایسا سوال نہیں کیا ، عمر نے کبھی ایسا سوال نہیں کیا ، اسی طرح عثمان علی، طلحہ اور زبیر نے کبھی ایسے سوالات نہیں کئے ، اکا برانصار نے کبھی ایسے سوال نہیں کئے ، ان کی تو یہ حالت تھی غریب صحابہ کا ایک گروہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! آپ جو حکم دیتے ہیں وہ اُمراء بھی بجالاتے ہیں اور ہم بھی نمازیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور ہم بھی ، روزے وہ بھی رکھتے ہیں اور ہم بھی ، حج بھی دونوں کرتے ہیں مگر وہ زکوۃ دیتے ہیں اور ہمارے پاس روپیہ نہیں اس لئے یہ ہم سے درجہ میں بڑھ جاتے ہیں کوئی ایسی تدبیر بتائیے کہ یہ ہم سے نیکی میں نہ بڑھ سکیں ۔ آپ نے فرمایا کہ تم ہر نماز کے بعد ۳۳ دفعہ سُبْحَانَ اللهِ ۳۳ دفعہ الْحَمْدُ لِلَّهِ اور ۳۴ دفعہ اللهُ اَكْبَرُ پڑھ لیا کرو اللہ تعالیٰ دوسروں سے پہلے تمہیں جنت میں لے جائے گا ۔ یہ سن کر سب غرباء نے یہ پڑھنا شروع کر دیا۔ یہ نہیں کہا کہ ہم صرف فرائض ہی ادا کریں گے لیکن اس زمانہ کے امراء بھی نیکیوں میں ترقی کرنے کیلئے ہمیشہ ٹوہ میں رہتے تھے ان کو جب علم ہوا تو انہوں ۔ ہوا تو انہوں نے بھی یہ وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا۔ اس پر غرباء آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ ! ان کو رو کئے یہ بھی وہ وظیفہ پڑھنے لگے ہیں۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص خدا کی خوشنودی کیلئے کوئی کام کرتا ہے میں اسے کیسے روک سکتا ہوں ہے۔ صلى الله صلى الله صلى الله پس یہ حقیقی اور عقلمند مؤمن تھے وہ شخص بھی مؤمن تھا اور بخشا ہوا مومن تھا جو آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا مگر بیوقوف مؤمن تھا اس نے سمجھا کہ مجھے چھوٹی سے چھوٹی رحمت بھی مل جائے تو کافی ہے مگر عقلند مؤمن کہتا ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ کیوں نہ لوں ۔ پس نوافل اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں یعنی وہ عبادت جو انسان کی مرضی پر چھوڑ دی گئی ہو۔ نوافل ادا کرتے کرتے انسان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ