خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 732 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 732

خطبات محمود ۷۳۲ سال ۱۹۳۶ بطور سزا اُس سے ڈیوڑھا یا دو گنا چندہ وصول کرتے آپ نے یہ حکم دے دیا کہ آئندہ اس شخص سے کوئی صدقہ قبول نہ کیا جائے اس پر اُس کے دل نے محسوس کیا کہ در حقیقت میراد بنا لینا تھا اور میں نے غلطی کی جو اس قسم کا جواب اسے دیا۔چنانچہ اگلے سال وہ بہت سی زکوۃ اکٹھی کر کے رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں یہ صدقہ لایا ہوں۔آپ نے فرمایا نہیں اب تم سے یہ مال قبول نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اُس سے زکوۃ قبول نہ کی گئی ، آپ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں جب اہل عرب نے ارتداد اختیار کیا زکوۃ کی وصولی کے متعلق لڑائیاں ہوئیں اور پھر دوبارہ اہل عرب اسلام میں داخل ہوئے تو اُس شخص نے نی سمجھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ میری زکوۃ بھی قبول ہو چنانچہ وہ پھر اپنے اونٹوں اور بھیڑوں اور بکریوں کا بہت سا گلہ جو گزشتہ اور موجودہ زکوۃ پر مشتمل تھا لے کر حضرت ابو بکر کی خدمت میں کی حاضر ہوا مگر انہوں نے فرمایا جس چیز کو خدا کے رسول نے قبول نہیں فرما یا ابو بکر بھی اسے قبول نہیں کر سکتا۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ہر سال وہ زکوۃ دینے کیلئے اتنا بڑا گلہ لاتا کہ میدان اُس سے بھر جا تا مگر خلفاء اُس کا مال لینے سے انکار کر دیتے اور وہ روتا ہوا گھر چلا جاتا۔یہ شخص کامل مؤمن نہیں تھا کیونکہ اگر کامل مؤمن ہوتا تو رسول کریم ﷺ کے پیغامبر کو وہ کیوں یہ جواب دیتا کہ ان کو ہر وقت چندوں کی ہی پڑی رہتی ہے مگر اس کے دل میں جو تھوڑا بہت ایمان تھا اس کے باعث و ہر سال آتا تھا کہتا تھا کہ میری زکوۃ قبول کی جائے۔پس میں تو یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ منتظمین جلسہ سالانہ میں سے کوئی شخص ہماری جماعت کے مخلص لوگوں کے پاس گیا ہو اور سچ سچ حقیقت بیان کی ہو اور انہوں نے کہہ دیا ہو کہ ہم مکان کی دینے کیلئے تیار نہیں۔میں تو سمجھتا ہوں شاید مکانوں والے منتظمین کے پیچھے پھر رہے ہوں گے اور نے کہتے ہوں گے ہمارے مکان لیتے کیوں نہیں۔پس میں تو منتظمین کی ہی ملامت کروں گا اور کہوں گا کہ ان کے کام میں کچھ نقص ہے اور انہوں نے صحیح طور پر کوشش نہیں کی ورنہ ہر مکان میں ہر سال کچھ نہ کچھ مہمان ٹھہرتے اور ہر سال لوگ مکان دیتے اور ہر سال اپنی خدمات بھی پیش کرتے ہیں اور اب تو نیشنل لیگ کو ر بھی قائم ہو چکی ہے جس کے والنٹیئروں نے حلفیں اُٹھائی ہوئی ہیں کہ وہ سلسلہ کی خدمت کریں گے آخر یہ حلف انہوں نے مکھن لگا لگا کر چاٹنی تو نہیں اس کی کوئی نہ کوئی