خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 716 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 716

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۱ سال ۱۹۳۶ء تحریک جدید کے تیسرے سال کا یکم دسمبر ۱۹۳۶ء سے آغاز (فرموده ۲۷ نومبر ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- باوجود طبیعت کی ناسازی اور بخار کے میں نے آج جمعہ کا خطبہ اس لئے کہنے کا ارادہ کیا۔ ہے کہ تا تحریک جدید کے سال سوم کی تحریک کا اعلان کر سکوں ۔ آج سے دو سال پہلے جب میں نے تحریک جدید کی ابتدا کی تھی اُس وقت کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ تحریک آئندہ کیا رنگ اختیار کرنے والی ہے۔ شاید آج بھی لوگ اس کے نتائج سے ناواقف ہوں گے لیکن میں جانتا ہوں کہ در حقیقت والی ہے۔ شاید کے سے ہوں گے لیکن ہوں درد کے گے یہ تحریک الہی تصرف کے ماتحت ہوئی تھی ۔ ہماری جماعت ان سہولتوں کی وجہ سے جو مؤلفۃ القلوب کے حق میں خدا تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اُس بیداری اور قربانی سے محروم ہوتی جا رہی تھی جس کے بغیر کوئی روحانی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ در حقیقت ہمارے کام ایک منظم انجمن کی صورت صورت اختیار کرتے جارہے تھے جس کا کام لوگوں سے کچھ رقوم حاصل کرنا اور انہیں بعض تمدنی یا علمی ضرورتوں پر خرچ کرنا ہوتا ہے اور وہ اصل غرض یعنی اپنے دل کو خدا کی محبت میں فنا کر دینا اور دنیا میں ہوتے ہوئے اُس سے جدا رہنا اور دنیا کماتے ہوئے دین میں ترقی کرنا اور بنی نوع انسان میں رہتے ہوئے خدا کے قریب رہنا اور جسمانی سانس لیتے ہوئے اپنے اوپر ایک موت وارد کر لینا اور اپنے قدم ہمیشہ اطاعت کیلئے بڑھاتے چلے جانا اس کی طرف سے غفلت پیدا ہو رہی تھی تب خدا نے چاہا کہ اُس کی رحمت اور اُس کا فضل زمین پر نازل ہو اور اس کام میں زندگی پیدا کرے جسے خدا تعالیٰ