خطبات محمود (جلد 17) — Page 713
خطبات محمود ۷۱۳ سال ۱۹۳۶ قرآن کریم میں تَقَلُبَكَ فِی السَّاجِدِينَ آ کے الفاظ سے اشارہ کیا گیا ہے ( یہاں ساجد کے معنے سجدہ کرنے والے اور نیک کے نہیں ہیں بلکہ فرمانبردار اور مطیع کے ہیں ) اور دنیا کا تمام کارخانہ اسی طرح چلا یا جاتا ہے کہ جب وہ شخص آئے تو موافق حالات پا کر اس روحانی بادشاہت کو قائم کرے جس بادشاہت کو قائم کرنے کیلئے خدا تعالیٰ اُن کو مبعوث فرماتا ہے۔جس طرح ایک معزز آدمی کے آنے سے پہلے شہر کو سجایا جاتا ہے، صفائیاں کی جاتی ہیں، چھڑکاؤ کئے جاتے ہیں ، بڑا ے بڑے پھاٹک کھڑے کئے جاتے ہیں ، مکانوں میں سفیدیاں کرائی جاتی ہیں، اسی طرح ایسے کامل انسانوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے صفائی اور چھڑکاؤ کا طریق جاری رکھا ہوا ہے اسی وجہ سے جب وہ دنیا میں آتے ہیں تو وہ جو دنیا کی نگاہوں میں ناممکن ہوتا ہے ممکن ہو جاتا ہے۔آخر آپ لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ ہزاروں ہزار عیب اور لاکھوں لاکھ نقص جو انسانوں کے دلوں میں پیدا ہور ہے تھے اور وہ بے انتہاء زنگ جو ان کے دماغوں کو لگ رہا تھا اس کی موجودگی میں کس طرح خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو جو اب لاکھوں کی تعداد میں ہیں اس تعلیم پر ایمان لانے کی توفیق بخشی جو آنحضرت لے کے ذریعہ سے نازل ہوئی تھی اور جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر قسم کی گرد سے پاک کر کے پھر جلا بخشی تھی۔اس کی یہی وجہ تھی کہ وہ علیم وخبیر خدا جو ہمیشہ۔جانتا ہے اور جانتا رہے گا کہ اس زمانہ میں اس کا مسیح پیدا ہونے والا ہے وہ دنیا کے ذرہ ذرہ میں ایسی تحریک کر رہا تھا اُس وقت سے جب سے یہ دنیا پیدا کی گئی بے انتہاء سال اُس وقت سے پہلے جبکہ انسان پہلے پہل دنیا پر ظاہر ہوا تھا کہ تمام دنیا میں ایسے تغیر پیدا ہوتے رہیں کہ کروڑوں اور اربوں سالوں کے بعد جس وقت اُس کا مسیح ظاہر ہو تو کچھ دل ایسے تیار ہوں جو فوراً یا قریب کے عرصہ میں اُس کی آواز پر لبیک کہیں اور اپنے دلوں کے برتنوں کو اُس کی تعلیم کا دودھ بھرنے کیلئے پیش کر دیں۔پس مسیح موعود کی بادشاہت بھی جس طرح ازلی ہے اسی طرح ابدی ہے اور یہی حال باقی تمام انبیاء کا ہے۔جو شخص اس نکتے کو سمجھ لے وہی اس حدیث کو سمجھ سکتا ہے جو رسول کریم علیہ نے ختم نبوت کے متعلق بیان فرمائی ہے اور جس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔اس کے سوا کوئی معنے کر کے دیکھ لو یا ان میں رسول کریم ع کی ہتک ہو جائے گی یا آدم علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کی ہتک ہو جائے گی۔یہی ایک معنے ہیں جو ایک طرف رسول کریم ﷺ کی عظمت کو قائم کر