خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 714 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 714

خطبات محمود ۷۱۴ سال ۱۹۳۶ ہیں تو دوسری طرف باقی انبیاء کی عظمت کو بھی قائم رکھتے ہیں۔پس اے عزیز و! تمہارے لئے ازلی اور ابدی بادشاہت کے دروازے کھلے ہیں تم میں سے جس میں ہمت ہو اور جو موت کے دروازے میں سے گزر کر خدا میں محو ہونے کی طاقت رکھتا ہو اُسے خوش ہونا چاہئے کہ اُس کے لئے بھی وہی برکتیں اور وہی رحمتیں موجود ہیں جو اُس سے پہلے لوگوں کیلئے موجود تھیں۔ضرورت صرف قربانی کی ہے اور تقویٰ کی ہے جس کا دوسرا نام محبت الہی ہے۔جس دل میں خدا کی محبت آگئی باقی سب تفصیلیں اس میں آ جاتی ہیں۔جس طرح خدا تمام چیزوں کا جامع ہے یعنی ہر چیز اُس کے علم میں ہے اور ہر چیز اُس کے قبضہ میں ہے اور ہر چیز اُس کی قدرت میں ہے اسی طرح خدا کی محبت بھی جامع ہے اس میں بھی ہر چیز داخل ہوتی ہے یعنی تمام وہ روحانی ضرورتیں جو انسانی تکمیل کیلئے ضروری ہیں محبت الہی میں سے آپ ہی آپ نکلتی آتی ہیں۔پس خدا کی محبت پیدا کرو اور محبت کا جو لازمی نتیجہ ہے یعنی قربانی اس کے آثار دکھاؤ تو تمہارے لئے بھی خدا کے فضل اُسی طرح ظاہر ہوں گے جس طرح آنحضرت ﷺ کے صحابہ کیلئے ظاہر ہوئے تھے۔دنیا میں ایک طوفان بپا ہے لوگ خدا کو بھول گئے ہیں، محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوگئی ہے، وہ چمکتا ہوا ستارہ جسے خدا نے دنیا کی ہدایت کیلئے پیدا کیا لوگوں کی کی آنکھوں میں نور پیدا کرنے کی بجائے سر دست تو حاسدوں کے دلوں میں ایک انگارہ بن کر جل رہا ہے یعنی خدا کا مسیح دنیا کی تضحیک اور اُس کے تمسخر کا مرکز بنا ہوا ہے۔ایک بہت بڑا کام ہے جو ہمارے سامنے ہے، ایک نئی دنیا کی تعمیر ، ایک نئے آسمان اور زمین کی بنیاد، پس اپنی ہمتیں مضبوط کرو اور ارادے کی کمر کس لو اور اپنے ارد گرد کے منافقوں کی طرف نگاہ مت ڈالو کہ مؤمن منافق کو کھینچتا ہے نہ کہ منافق مؤمن کو۔جس دل میں ایمان ہوتا ہے رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر اسے آگ میں بھی ڈال دیا جائے تو وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا اور فرماتے ہیں کہ یہ ادنیٰ درجے کا ایمان ہے ہے۔پس آج میں اجمالی طور پر تحریک جدید کے تمام مطالبات کی طرف جماعت کو پھر بلاتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس پہلے درجہ کی آخری جماعت میں ہمارے دوست ایسے اعلیٰ نمبروں پر پاس ہوں گے کہ خدا کے فضل ان پر بارش کی طرح نازل ہونے لگیں گے اور دشمنوں کے دل مایوسی۔ނ