خطبات محمود (جلد 17) — Page 71
خطبات محمود 21 سال ۱۹۳۶ء جاتے ہیں، میں کہتا ہوں جماعت سے بیکاری دور کرو اور مبلغ خود اپنے اندر بیکاری پیدا کرتے چلے جاتے ہیں ، میں کہتا ہوں وعظوں کی بجائے اپنا نیک نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کرو اور وہ پُرانے مسائل لوگوں کے سامنے پیش کرتے چلے جاتے ہیں حالانکہ ہر چیز کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے۔جو لوگ وفات مسیح مان چکے ہوں اُن کے سامنے وفات مسیح کا مسئلہ پیش کرنا بیوقوفی ہے اور یہ سمجھنا کہ قرآن کریم کی ایک آیت کے ایک ہی معنی ہیں اور زیادہ بیوقوفی ہے۔قرآن کریم کی کوئی آیت نہیں جو صرف ایک مطلب اپنے اندر رکھتی ہو۔اگر ایسا ہی ہوتا تو جن آیتوں سے وفات مسیح ثابت ہے وہ میرے لئے منسوخ کی طرح ہوتیں مگر یہ غلط ہے۔باوجو د وفات مسیح تسلیم کرنے کے میرے لئے بھی وہ آیتیں اپنے اندر کئی معارف رکھتی ہیں۔مثلاً يَعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ الی سے والی آیت دوسروں کیلئے یہ مفہوم رکھتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں مگر رے لئے اس میں یہ سبق ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو جائے اگر ساری دنیا مل کر بھی اُسے مارنا چاہے تو نہیں مار سکتی۔اب اگر کوئی شخص میرے سامنے یہ آیت اس غرض کیلئے پیش کرے کہ اس سے وفات مسیح ثابت ہوتی ہے تو وہ میرا وقت ضائع کرتا ہے۔ہر زمانہ کا دورا لگ ہوتا ہے اور ہر دور میں الگ آیتیں پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، الگ حدیثیں پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، الگ استدلال پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔تم کیوں سمجھتے ہو کہ قرآن کریم کی ایک آیت کے ایک ہی معنی ہیں۔تم ان ہی آیتوں کو لے کر ان سے اور اور معارف نکال سکتے اور دنیا کو محوِ حیرت بنا سکتے ہو۔قرآن کریم تو ذوالبطون ہے اور اس کی ایک ایک آیت میں کئی کئی معارف پنہاں ہیں۔کسی وقت اس کے کسی معنی پر زور دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی وقت کسی مفہوم پر۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت محسوس کرے کہ خلیفہ وقت جو کچھ کہتا ہے اُس پر عمل کرنا ضروری ہے۔اگر تو وہ بجھتی ہے کہ خلیفہ نے جو کچھ کہا وہ غلط کہا اور اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکل سکتا تو جو لوگ یہ سمجھتے ہوں ان کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ کو سمجھائیں اور اُس سے ادب کے ساتھ تبادلہ خیالات کریں لیکن اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر ان کا فرض ہے کہ وہ اُسی طرح کام کریں جس طرح ہاتھ دماغ کی متابعت میں کام کرتا ہے۔ہاتھ کبھی دماغ کو سمجھاتا بھی ہے کہ ایسا نہ کرو۔مثلاً دماغ کہتا ہے فلاں جگہ مگا مارو۔ہاتھ منگا مارتا ہے تو آگے وہ زرہ کی سختی محسوس کرتا ہے اور ہاتھ کو درد