خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 71

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۲ سال ۱۹۳۶ء سے جدا ہونے کیلئے تیار تھا محض پانچ روپے پر اپنی قوم کو بیچ دینے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔ ا تھائی پراپنی کو ہوجاتا یہودا اسکر یوطی کو دیکھو۔ حضرت مسیح علیہ السلام کیلئے وہ سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار تھا اور حواریوں میں وہ خاص عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا لیکن اس نے تمھیں درہم پر اور وہ بھی کھوٹے تھیں درہموں پر کہ اگر وہ کھوٹے نہ ہوتے تب بھی ان کی قیمت آجکل کے لحاظ سے ساڑھے سات روپے بنتی ہے حضرت مسیح علیہ السلام کو بیچ دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی وہی عادت تھی جو آجکل ہمارے بعض نو جوانوں میں پائی جاتی ہے کہ نکما بیٹھے رہتے اور مُفت کی کھاتے ہیں اور مفت کی کھانے کی عادت پیدا ہوتی ہے اپنے ہاتھ سے کام نہ کرنے کے نتیجہ میں ۔ ۔ اس وقت جتنے لوگ ہیں خواہ وہ بڑے ہیں یا چھوٹے سب میرے مخاطب ہیں اور میں ان میں سے بہت کم لوگوں کو مستثنی کر سکتا ہوں بلکہ میں سمجھتا ہوں اپنے ہاتھ سے کام نہ کرنے کی عادت کے لحاظ سے باوجود اس کے کہ یہ تعلیم میرے منہ سے نکل رہی ہے میں اپنی اولاد کو بھی مستثنی نہیں کر سکتا۔ وہ بھی اس بات پر تو تیار ہو جائیں گے کہ سلسلہ کیلئے اپنی جانیں دیں، تبلیغ کیلئے غیر ملکوں میں نکل جائیں لیکن اپنے ہاتھ سے کام کرنا انہیں دو بھر معلوم ہوگا ۔ یہ محض عادت نہ ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ اگر انہیں عادت ہو جائے تو اس کام میں بھی وہ کوئی تکلیف محسوس نہ کریں۔ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ اذخر کاٹ کر لاتے اور بیچتے ہے۔ اذخر ایک قسم کا گھاس ہوتا ہے اہل عرب میں چونکہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت تھی اس لئے وہ ان کاموں کو بُرا نہیں سمجھتے تھے لیکن ہمارے ملک میں کام کرنا عزت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ جب تک ہم اس خیال کو دور نہیں کر دیتے جماعت میں سے آوارگی اور جہالت دور نہیں ہو سکتی ۔ اور اگر کام کرنے کی روح جماعت میں پیدا کر دیں تو جماعت کا ۲۵ فیصد بوجھ اُتر سکتا ہے اور جب اس روح کے نتیجہ میں وہ دنیا میں مفید کام کرنے لگ جائیں تو میں سمجھتا ہوں ۲۵ فیصد بوجھ اور اُتر سکتا ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں چندہ دینے والے بہت سے نئے لوگ پیدا ہو جائیں گے۔ غرض اگر اس وقت ہمارا خرچ کا تین لاکھ سالانہ بجٹ ہوتا ہے تو بیکاروں کا بوجھ ہٹ جانے کی وجہ سے بجٹ سو ا دو لاکھ پر آجائے گا اور اگر اس وقت آمد اڑھائی لاکھ ہوتی ہے تو