خطبات محمود (جلد 17) — Page 709
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ٧٠٠ ۴۰ سال ۱۹۳۶ء کامیابی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان تذلیل اور انکسار اختیار کرے فرموده ۶ نومبر ۱۹۳۶ء بمقام محمود آباد سندھ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے قرآن کریم کی اس آیت کی تلاوت فرمائی قَدْ فَلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ اے ۔ اس کے بعد فرمایا : - دنیا میں کئی لوگ کیا کرتے ہیںکہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو۔ دنیا میں ہیں وہ اور دنیا میں کئی لوگ شکوہ کیا کرتے ہیں کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوتے اور ان کی محنتیں ضائع چلی جاتی ہیں ایسے لوگ ہمیں دُنیوی کام کرنے والوں میں بھی دکھائی دیتے ہیں اور دینی کام کرنے والوں میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ دُنیوی زندگی کو سطح نظر قرار دینے والوں سے میں بھی بعض شکوہ کیا کرتے ہیں کہ ان کے کاموں کا انفرادی یا قومی رنگ میں کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا اور دینی کام کرنے والوں میں سے بھی بعض لوگ شکوہ کیا کرتے ہیں کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، استطاعت پر حج بھی کرتے ہیں ، ذکر الہی بھی کرتے ہیں ، سچائی اور دیانت سے بھی کام لیتے ہیں لیکن وہ ان کا کوئی غیر معمولی اثر اپنے اندر محسوس نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انہی ناکامیوں کے پیش نظر بعض گر بیان فرمائے ہیں جن کو مد نظر رکھنے سے انسان دینی و دنیاوی طور پر کامیاب یا با مراد ہو جاتا ہے اور اس کے کاموں کا صحیح نتیجہ برآمد ہونے لگتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمُ