خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 709 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 709

خطبات محمود 2۔9 سال ۱۹۳۶ شاید بعض لوگ خیال کریں کہ اس لمبے عرصہ میں قرآن کریم کے اترنے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ کئی صحابہ جو اخلاص میں زندہ رہنے والوں سے کم نہ تھے خدا کی راہ میں شہید ہو گئے او کامل کتاب کے دیکھنے کا ان کو موقع نہ ملا اور شاید اس طرح ان کا ایمان نامکمل رہا۔یہ اعتراض قرآن کریم میں بھی مذکور ہے شاید آج بھی بعض لوگوں کے دلوں میں یہی خیال پیدا ہو سو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایمانی تکمیل دوراہوں سے ہوتی ہے۔ایک عمل کے کمال کے ساتھ اور ایک ایمان کے کمال کے ساتھ۔جن لوگوں کو ایمانی کمال حاصل ہو جاتا ہے ان کیلئے عملی کمال ایک طبعی عمل ہو جاتا ہے اور وہ اس ایمانی کمال کے ماتحت اپنے اعمال کو بغیر خارجی تحریک کے آپ ہی آپ کی ایسے سانچے میں ڈھالتے چلے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ہوتا ہے اور اس کی کی قبولیت کو حاصل کرتا ہے۔عملی تفصیلات در حقیقت کمزور انسانوں کی تقویت کیلئے ہوتی ہیں اور کامل انسان شکر گزاری کیلئے ان پر عمل کرتا ہے اور خدائی حکم کامل انسانوں سے اس لئے ان احکام پر عمل کرواتا ہے تا کمزور انسان ان کی نقل کر کے عمل نہ چھوڑیں۔پس گو عملی تفصیلات جاری ہوتی ہیں کامل اور کمزور دونوں پر مگر ان کی اجراء کی حکمتیں دونوں صورتوں میں مختلف ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت ﷺ کو ایک موقع پر اس طرف توجہ دلائی کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ و آئندہ ذنوب کو معاف فرما دیا ہے آپ عبادت پر اتنا زور کیوں دیتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! أَفَلا اَكُوْنَ عَبْدًا شَكُورًا کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں سے۔یعنی لوگ تو عمل اس لئے کرتے ہیں تا ان کی امداد سے کامل ہو جائیں اور میں عمل اس لئے کرتا ہوں کہ خدا نے جو مجھے کامل بنایا ہے تو اُس کا شکر ادا کروں۔پس اس کی حدیث نے اعمال کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے خود قرآن کریم کی یہ آیت جسے حضرت عائشہ نے بیان فرمایا اور جو روحانی اندھوں کے نزدیک ہمیشہ قابلِ اعتراض رہی ہے اس کا یہی مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نبی حصول کمال کیلئے عمل نہیں کرتا کیونکہ عملوں نے جو کچھ پیدا کرنا تھا وہ تو خدا نے خود ہی اُس کیلئے پیدا کر دیا اب وہ جو کچھ کرتا ہے اظہارِ شکر کے طور پر کرتا ہے۔اس مسئلہ کی وضاحت اس امر سے بھی ہو جاتی ہے کہ نبی ، نبی پہلے بنتا اور شریعت پر بعد میں عمل کرتا ہے اور عام مؤمن عمل پہلے کرتا ہے اور روحانی درجے اسے بعد میں حاصل ہوتے ہیں