خطبات محمود (جلد 17) — Page 708
خطبات محمود ۷۰۸ سال ۱۹۳۶ دنیا میں جاری کرنا چاہتا ہے۔جس طرح بچوں کے لباس سے بڑوں کے لباس کا فرق ہوتا ہے اسی طرح مؤلّفتہ القلوب والی حالت اور کامل حالت میں فرق ہوتا ہے۔بچے کبھی نگے بھی پھر لیتے ہیں اور کبھی کپڑے بھی پہن لیتے ہیں نہ ان کی ایک حالت کو لوگ سراہتے ہیں نہ ان کی دوسری حالت کو قابل ملامت قرار دیتے ہیں۔اسی طرح روحانیت کی ابتدائی حالتوں میں الہی جماعتوں کو کچھ سہولتیں دی جاتی ہیں یہاں تک کہ وقت آ جاتا ہے کہ کمزور اور طاقتور میں امتیاز کیا جائے اور منافق اور مؤمن میں فرق کیا جائے تب خدا کی مشیت ان سہولتوں کو واپس لے لیتی ہے اور دین اپنی کامل شان کے ساتھ دنیا میں قائم کر دیا جاتا ہے۔قرآن کریم تمام کمالات کی جامع کتاب ہے اور اس کا نازل کرنے والا کوئی بندہ نہیں بلکہ علام الغیوب خدا ہے جس کے علم میں ہر ھے خواہ ماضی ، خواہ حال ، خواہ مستقبل ، غرض کسی زمانہ سے بھی تعلق رکھتی ہو محفوظ ہے اس کیلئے ابد بھی وہی حیثیت رکھتا ہے جو ازل، نہ اس کیلئے کوئی گزشتہ زمانہ ہے نہ آئندہ ہے ہر چیز اس کی نظر کے سامنے حاضر ہے خواہ وہ ہو چکی اور گزرگئی اور خواہ وہ آئندہ ہونے والی اور پوشیدہ ہے۔اس کیلئے کیا مشکل تھا کہ سارا کا سارا قرآن کریم ایک ہی وقت میں نازل فرما دیتا۔اُسے نہ سوچنے کی ضرورت تھی نہ تدبر کی ، نہ تصنیف میں اُس کا کوئی وقت صرف ہوتا تھا کہ اُس نے قرآن کریم کو آہستہ آہستہ تئیس ۲۳ سال کی مدت میں اُتارا؟ اس میں یہی حکمت تھی کہ آہستہ آہستہ تعلیم اترے اور ایمان کی پہلی حالتوں میں مؤمنوں پر یکدم بوجھ نہ پڑ جائے۔دو دو چار چار آیتوں پر مؤمن عمل کرتے گئے جب ان کے عادی ہو گئے تو پھر اور آیتیں نازل ہو گئیں۔حکم پر حکم ، ہدایت پر ہدایت ، فرمان پر فرمان نازل ہوتا ہ گیا یہاں تک کہ وہ دن آگیا جب محمد ﷺ نے ایک وسیع مجمع میں حج کے ایام میں ایک اونٹنی پر سوار ہو کر دنیا کو یہ خوشخبری سنائی کہ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي لے۔میں نے آج تمہارے لئے دین مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے گویا یہ اس امر کا اعلان تھا کہ مؤمنوں کے ایمان پختہ ہو گئے ، ان کے روحانی جسم کی ہڈیاں مضبوط ہوگئیں اور کمر قوی ہوگئی ہو تب خدا تعالیٰ نے اپنی امانت کا سارا بار انسان کی پیٹھ پر لاد دیا کیونکہ ایک لمبے امتحان کی زندگی میں سے گزر کر انسان نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ بوجھ جس کو اٹھانے سے پہاڑ بھی لرزتے تھے وہ ظلوم وجهول بن کر اور عاشقانہ جوش کے ساتھ اس بوجھ کو اپنی پیٹھ پر اُٹھا لینے کیلئے تیار ہو گیا تھا۔