خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 703 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 703

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۹۴ سال ۱۹۳۶ء کیا يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ نے جو احتیاطیں کیں یہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اور نہ جس خدا نے آ ورنہ آپ کے ساتھ فتح کا وعدہ کیا ہے مکہ والے اُس کی طاقتوں کا مقابلہ کہاں کر سکتے ہیں مکہ میں میرے کوئی رشتہ دار ایسے نہیں ہیں جو میرے بیوی بچوں کی حفاظت کر سکیں باقی سب صحابہ کے رشتہ دار مکہ کے بڑے بڑے رئیس ہیں میں نے اس لئے رقعہ بھیج دیا تھا کہ اس وجہ سے وہ میرے بیوی بچوں کو نقصان نہ پہنچائیں گے ۔ باقی خدا کی بات تو پوری ہو کر ہی رہے گی اس لئے میرا رقعہ بھیج دینا کوئی ایسی بات نہ تھی جس سے اسلام کو نقصان پہنچ سکے ۔ صلى عام حالات میں یہ ایک منافقانہ بات ہے اور اس جواب کو سُن کر انسان کہے گا کہ بہانے بناتا ہے لیکن اس میں شبہ بھی کیا ہے کہ یہ بات سچی تھی خدا تعالیٰ کے وعدہ کو کون ٹلا سکتا تھا مگر چونکہ عام حالات میں یہ ایک منافقانہ بات تھی اس لئے صحابہؓ نے اپنی تلواریں نکال لیں کہ اجازت ہو تو ابھی سرکاٹ دیں مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا آرام سے بیٹھو تمہیں معلوم نہیں کہ یہ بدری ہے۔ ۳ ۔ یہ واقعہ خود بتاتا ہے کہ اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ کا کیا مطلب ہے ۔ اس صحابی سے غلطی ہوئی مگر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دے دی اور وہ رقعہ واپس آگیا اس عورت نے جا کر یہ سارا واقعہ مکہ میں بیان تو کر ہی دیا ہو گا کہ اس طرح فلاں شخص نے مجھے ایک رقعہ دیا تھا جس میں یہ لکھا تھا اور اس طرح وہ مجھ سے واپس لے لیا گیا اور اس طرح وہ صحابی اس رقعہ سے جو فائدہ اُٹھانا چاہتے تھے وہ بھی حاصل ہو گیا ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے اس رقعہ کے پہنچنے کے گناہ سے اُس صحابی کو بھی بچالیا۔ آنحضرت ﷺ نے کئی کئی منزلیں ایک ایک دن میں طے کیں تا مکہ والوں کو خبر ہونے سے پیشتر ہی پہنچ جائیں ۔ تو اعْمَلُوا مَا شِئْتُم میں یہی بتایا تھا کہ بدری صحابی اگر کوشش بھی کریں تو اُن سے کوئی ایسی بات سرزد نہ ہو گی جو انہیں گنہگار بنادے۔ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ اگر یہ رقعہ پہنچا تو وہ صحابی گنہگار ہوگا اس لئے رسول کریم ﷺ کو حکم دیا کہ بھیجو علی کو اور رقعہ واپس منگوالو۔ یہ مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اس مقام پر پہنچ جائے اللہ تعالیٰ اس سے گناہ سرزد ہونے ہی نہیں دیتا۔ ایک صحابی نے غلط فہمی کی وجہ سے ایک ایسا فعل کیا جو اُسے گناہگار بنانے والا تھا لیکن اللہ تعالی نے اپنا حکم جاری کر کے اسے بچا لیا ۔ تو مَالِكِ يَوْمِ الدِّینِ میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ایسے انسان کے انجام کو اللہ تعالیٰ اپنا انجام قرار دے لیتا ہے۔ صلى