خطبات محمود (جلد 17) — Page 703
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ اور جھک جاؤ چنانچہ وہ سجدے کا حکم دیتا ہے جو تذلل کا انتہائی مقام ہے اور سجدہ دو دفعہ رکھا ہے جس کی کا مقصد یہ ہے کہ تواتر سے اس پر عمل کیا جائے گویا جھکو اور جھکتے چلے جاؤ۔پھر ہر رکعت میں اس کا تکرار انسان کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ اسے اپنے ہر کام کا اختتام سجدہ پر ہی کرنا چاہئے کیونکہ بعض لوگ مختلف نیکیوں میں تو حصہ لیتے ہیں لیکن آخر تکبر میں مبتلاء ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جس قوم نے کوئی بڑا کام کر کے تکبر کیا وہ گر گئی۔مسلمانوں نے طب میں ترقی کی لیکن جب وہ ایسے مقام پر پہنچ گئی کہ کسی کے آگے جھکنے کو عار سمجھنے لگے تو ان کے ہاتھ سے طب نکل گئی اور یورپ میں چلی گئی۔اب یورپ نے اس میں اس حد تک ترقی کر لی ہے کہ پہلا سارا کام کھلونا سا معلوم ہوتا ہے۔یورپ نے اپنے آپ کو اس وقت تک طالب علم سمجھا ہوا ہے لیکن کی جہاں اُس نے یہ خیال کیا کہ اب وہ استاد بن گیا ہے وہ گرنا شروع ہو جائے گا اور یہ کمال ان سے نکل کر کسی اور کے پاس چلا جائے گا۔اسی طرح قدیم مصریوں نے انجینئر نگ میں ترقی کی لیکن جب انہوں نے تکبر کیا تو یہ فن ان کے ہاتھ سے نکل کر یونانیوں کے پاس چلا گیا۔ان سے عربوں کے حصے میں آیا اور جب عربوں نے تکبر کیا تو یورپ میں چلا گیا جب وہ تکبر کریں گے تو ان سے بھی چھن جائے گا۔پس قوم اسی وقت تک ترقی کرتی ہے جب تک وہ بجھتی ہے کہ ابھی تک ہم نے اور سیکھنا ہے جب وہ یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ وہ استاد بن گئے ہیں تو ذلیل ہو جاتے ہیں۔غرض مؤمن دین اور دنیا دونوں میں کامیاب ہوتے ہیں صرف شرط یہ ہے کہ وہ جتنی بھی ترقی کرے اتنا ہی یہ سمجھے کہ میں نے کچھ بھی خدمت نہیں کی۔اگر یہ مادہ کسی میں پیدا ہو جائے تو وہ بڑھتا چلا جائے گا لیکن جب اُس نے یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ اب میں نے کافی ترقی کر لی ہے تو وہ ای گر جائے گا اور اس کے اندر نفاق پیدا ہو جائے گا۔غور کرو کہ کتنے معمولی سے جھٹکے سے ایک مؤمن منافق بن سکتا ہے پس کبھی تکبر کے قریب بھی نہ جاؤ عزت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے خواہ اس دنیا میں دے خواہ اگلے جہان میں۔کسی کیلئے ایک قسم کی عزت اچھی ہوتی ہے اور کسی کیلئے دوسری قسم کی۔ہم دیکھتے ہیں کہ والدین کو اپنے سب بچوں سے ہی پیار ہوتا ہے لیکن بعض چیزیں وہ اپنے کسی بچے کو دیتے ہیں اور کسی کو نہیں دیتے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی خوب جانتا ہے کہ بندے کو کس رنگ میں انعام دیا جاوے۔انسان کو تو اپنی عبادت کی قیمت بھی معلوم نہیں ہوتی پھر وہ اپنے لئے کوئی