خطبات محمود (جلد 17) — Page 701
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۹۲ سال ۱۹۳۶ء مجھے اطمینان قلب کس طرح حاصل ہو سکتا ہے۔ پس اطمینان قلب کیلئے میں نشان مانگتا ہوں ۔ میری یرے ہوش و حواس اور میرا مشاہدہ کہتا ہے کہ آپ مُردوں کو زندہ کرتے ہیں مگر د عقا ہے کہ میں خود کیا تعریف کروں جب تک یہ پتہ نہ لگے کہ میری اولاد میں بھی یہ نشان ظاہر ہوگا۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا دماغ ہی نہیں بلکہ دل بھی متوجہ ہو اور میرے دل میں عشق پیدا ہو اور دل اُسی وقت توجہ کرتا ہے جب اپنی ذات پر احسان ہو۔ تو جب تک علم کے ساتھ اور دل سے نہ ہو تعریف ، تعریف نہیں ہو سکتی اور اس کیلئے ان چار باتوں کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں بیان کی ہیں اور جن سے قلب کی بھی اور دماغ کی بھی تسلی کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ حمد کیلئے ضروری ہے کہ جس کی حمد کی جائے اُس کے اندر یہ چاروں کمالات ہوں ۔ کامل حمد کیلئے ایک ضروری چیز تو یہ ہے کہ اس کا احسان محدود نہ ہو اور وہ رَبُّ الْعَالَمِین ہو ہر عقلمند سوچ سکتا ہے کہ حمد کامل اس کے بغیر نہیں ہو سکتی ۔ فرض کرو دنیا میں دس آدمی ہی آباد ہیں اب ان میں سے اگر نو ہی تعریف کریں اور ایک نہ کرے یا آٹھ تعریف کریں اور دو نہ کریں یا سات یا تعریف کریں اور تین نہ کریں تو یہ حمد کامل نہ ہو سکے گی ۔ کامل حمد جبھی ہوگی کہ دسوں تعریف کریں تو اللہ تعالیٰ کے متعلق فرمایا کہ وہ رَبُّ الْعَلَمِین ہے وہ سب جہانوں کا رب ہے نہ اسی زمانہ کا بلکہ گزشتہ اور آئندہ زمانوں کا بھی اور نہ صرف انسانوں کا بلکہ سب مخلوق کا وہ ربّ ہے جو چیز بھی عالم وجود میں ہے وہ سب کا رب ہے اور جب اللہ تعالیٰ سب کا رب ہے تو کونسی چیز اس کی حمد سے باہر رہ سکتی ہے۔ پس حمد کامل کیلئے پہلے رَبُّ الْعَالَمِین ہونا اور پھر رحمن اور رحیم اور مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہونا ضروری ہے۔ رحمن کے معنے ہیں بغیر محنت کے وہ فضل کرتا ہے اور رحیم کے معنے ہیں کہ انسانی کاموں کے اعلیٰ بدلے دیتا ہے مَالِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے معنے ہیں کہ وہ حساب لیتا ہے تو سختی نہیں کرتا بلکہ نرمی سے کام لیتا ہے ۔ مَالِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے بغیر انسان کی تسلی نہیں ہو سکتی ۔ کسی کا ماضی خواہ کتنا ہی شاندار کیوں نہ ہو مستقبل خوف کے نیچے ہی رہتا ہے۔ تو مَالِكِ يَوْمِ الدِّینِ کہہ کر مستقبل بھی خوشکن کر دیا اور بتا دیا کہ انجام بھی اس کے ہاتھ میں ہے اگر نیک نیتی سے کام لو تو جو غلطیاں رہیں گی ان کی تلافی بھی وہ خود کر دے گا۔ اس کے بیسیوں معنے ہیں جن میں سے ایک درجن کے قریب