خطبات محمود (جلد 17) — Page 698
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۸۹ سال ۱۹۳۶ء کے ہر لمحہ اور ہر ساعت پر اور انسانی جسم کے ہر ذرہ پر ہے اس خدا کی تعریف کے ساتھ بھی دلیل دی گئی ہے کہ وہ سچی تعریف کا مالک ہے کیونکہ اس کے اندر یہ چار باتیں پائی جاتی ہیں اگر یہ نہ ہوتیں تو وہ تعریف کا مستحق نہ ہوتا تو کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ انسان جو اس قدر محدود دائرہ عمل رکھتا ہے اور اگر کوئی حُسن اس میں ہو تو نہایت ناقص ہوتا ہے، جس کی خوبیاں نہایت مشتبہ ہوتی ہیں وہ یہ امید کرتا ہے کہ ان چار باتوں کے بغیر ہی اس کی تعریف ہو جائے ، نہ وہ اپنے درجہ کے مطابق رَبُّ الْعَلَمِین بنے ، نہ اپنی حیثیت کے مطابق رحمن ہو، نہ رحیم اور نہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہو مگر پھر بھی لوگ کہیں کہ واہ یہ کیا اچھا آدمی ہے۔ جھوٹ سے تو یہ بات ہو سکتی ہے جھوٹی تعریف انسان ہر طرح کراسکتا ہے۔ غریب، کمزور سے جو چاہا کہلوالیا مگر حقیقی تعریف نہیں کراسکتا۔ ایک احمدی دوست کا ہی قصہ ہے ان کے ایک بھائی مخلص احمدی تھے ان کی وجہ سے وہ احمدی تو ہو گئے مگر قادیان آنے کی توفیق ان کو نہ ملی اور نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھنے کا موقع ملا۔ ان کی دو بیویاں تھیں اور ان کا طریق یہ تھا کہ کسی ذرا سی بات پر ناراض ہو کر بیوی کو مارنے لگتے اور جس کا قصور سمجھتے اسے مارنے کے بعد دوسری کو بھی مارتے اور وہ سبب پوچھتی کہ میرا تو کوئی قصور نہیں مجھے کیوں مارتے ہو؟ تو کہتے کہ تو اس پر ہنسے گی اس لئے تجھے مارتا ہوں ۔ وہ ایک کو تو قصور کی وجہ سے مارتے تھے اور دوسری کو اس لئے کہ وہ ہنسے نہیں ۔ ایک دفعہ قادیان سے کوئی دوست ان کے پاس گئے اور جب ان کو علم ہوا کہ یہ بیویوں کو مارتے ہیں تو انہوں نے نصیحت کی کہ یہ بہت بُری بات ہے اور بڑا ظلم ہے اللہ تعالیٰ نے عورتوں سے محبت اور پیار کا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اگر آپ قادیان جاتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم سنتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے جو آپ کر رہے ہیں ۔ وہ شخص چونکہ دل سے نیک تھا اس لئے کی اس بات کا اس پر بڑا اثر ہوا ۔ اس نے یہ باتیں سنیں اور رو پڑا اور کہنے لگا کہ اب کیا کروں ۔ اُس دوست نے بتایا کہ اب تو یہی طریق ہے کہ اپنی بیویوں سے معافی مانگیں اور توبہ واستغفار کریں ۔ وہ گھر میں گئے اور دونوں بیویوں کو بلا کر پاس بٹھایا اور کہا کہ مجھ سے بہت بڑا قصور ہوا اور اتنا بڑا گناہ ہوا ہے کہ شاید میری بخشش بھی نہ ہو سکے ۔ اب مجھے پتہ چلا ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ بیوی کو مارنا نہیں چاہیے إِلَّا مَا شَاءَ الله ان امور میں جن کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے سو میں بہت گنہگار