خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 682 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 682

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۷۳ سال ۱۹۳۶ء خدائی عذاب کی گرفت میں پھر کچھ دوسرے لوگ بھی آجاتے ہیں کیونکہ خدائی قانون یہ ہے کہ وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا تو ظالم طبع لوگوں کو تم اپنے میں سے آپ جُدا کرو اور اگر تم انہیں جُدا کرنے کیلئے تیار نہیں تو یا د رکھو جب ہم نے ظالموں کے گھروں پر آگ برسائی تو اگر تمہارے گھروں کو بھی لگ جائے تو شکوہ نہ کرنا ۔ ہماری جماعت کے سامنے بھی اس وقت یہی سوال در پیش ہے کہ آیا وہ اپنے گھروں کو اللہ تعالیٰ کی آگ سے جلوانا چاہتی ہے یا منافقوں اور منافق طبع لوگوں سے الگ ہونا چاہتی ہے اس کے سوا تیسری کوئی صورت نہیں ان میں سے ایک کا وقوع ضروری ہے یا منافق ہماری جماعت میں سے الگ ہو جائیں گے یا خدا ان کے گھروں کو جلائے اور ان کے گھروں کے ساتھ ان لوگوں کے گھر بھی جو اُن سے ملنے والے اور ان سے محبت اور دوستی کے تعلقات رکھنے والے ہیں جل جائیں گے ۔ تم کو خدا تعالیٰ کا سلسلہ اتنا پیارا ہو یا نہ ہو لیکن خدا تعالیٰ کو یہ سلسلہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ پیارا ہے کیونکہ وہ صداقت ہے اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی اُس وقت سے لے کر آج تک وہ اس صداقت کی حفاظت کیلئے سامان مہیا کرتا چلا آیا ہے۔ آخر سوچو کہ تمہیں اپنی زندگیوں میں جن منافقوں سے واسطہ پڑتا ہے ان کی تعداد کتنی ہے۔ یہاں کے اور بیرونی جماعتوں کے منافقوں کو ملا کر زیادہ سے زیادہ ان کی تعداد دو چار ہزار ہوگی ان دو چار ہزار منافقوں کی ساری دنیا کے مقابلہ میں نسبت ہی کیا ہے۔ دنیا کی آبادی اس وقت دو ارب ہے ان دو ارب آدمیوں کے مقابلہ میں دو چار ہزار منافقوں کی کچھ بھی حیثیت نہیں ۔ پھر جس صداقت کو احمدیت پیش کرتی ہے اور جس صداقت کو اسلام ظاہر کرتا ہے وہ صداقت دو ارب آدمیوں سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ عالم انسانی سے تعلق رکھتی ہے اور صرف عالم انسانی سے نہیں بلکہ تمام عالم سے تعلق رکھتی ہے کیونکہ انسان عالم صغیر ہے اور تمام عالم اس کی خاطر پیدا کیا گیا ہے بلکہ انسان بھی ایک اور چیز کی خاطر پیدا کیا گیا ہے جسے سچائی کہتے ہیں ۔ اس سچائی کے کامل نمونے جو دنیا میں ہوئے ہیں ان کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک سے ۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ سے خدا تعالیٰ نے یہی کہا کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ صلى الله صلى الله الافلاک یعنی اے محمد اما اگر تو نہ ہوتا تو میں زمین و آسمان کو کبھی پیدا نہ کرتا محمد ﷺ کو خدانا تعالیٰ