خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 677 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 677

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۶۸ (۳۸) منافقین کا جماعت احمد یہ سے علیحدہ ہونا جماعت کیلئے ہرگز نقصان رساں نہیں فرموده ۱۶ اکتوبر ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- سال ۱۹۳۶ء چونکہ آج میرے گلے میں زیادہ تکلیف ہے اور کھانسی بھی زیادہ اُٹھ رہی ہے اس لئے میں زیادہ دیر تک بول نہیں سکتا لیکن پھر بھی آجکل کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے چونکہ مجھے بولنا دیر بو سکتالیکن مدنظر چونکہ مرجی آجکل کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے چونکہ مجھے بولز پڑتا ہے اس لئے آج میں اختصار کے ساتھ پھر اسی مضمون کو لیتا ہوں جس مضمون کے متعلق میں نے گزشتہ جمعہ میں خطبہ پڑھا تھا یا یہ کہو کہ اس مضمون کے ایک حصہ کے متعلق جس کی طرف خطبہ کے ابتداء میں میں نے دوستوں کو توجہ دلائی تھی ۔ دوستوں کو معلوم ہے کہ متواتر کئی خطبات کے ذریعہ میں جماعت کو توجہ دلاتا آ رہا ہوں کہ افراد اور ان کی تعداد پر خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتوں کی طاقت نہیں ہوتی بلکہ ان کی طاقت اخلاص اور ایمان پر ہوتی ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے تمام افراد میں ابھی تک یہ حس پیدا نہیں ہوئی کہ وہ اس نکتہ کو سمجھیں ۔ وہ خطبات سنتے ہیں مگر ایک کان سے سنتے اور دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں ۔ بڑی سے بڑی نعمت بھی اگر اس سے فائدہ نہ اُٹھایا جائے اور بڑی سے بڑی نصیحت بھی اگر اس پر عمل نہ کیا جائے انسان کے کسی کام نہیں آسکتی۔