خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 669 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 669

خطبات محمود ۶۶۹ سال ۱۹۳۶ منافقین کا وجود جس قسم کا زہر اپنے اندر رکھتا ہے اس زہر کے ازالہ یا اس کے علاج کی طرف لوگ بہت ہی کم توجہ کرتے ہیں آخر اس کا کیا نتیجہ ہو گا ؟ یہی کہ خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں اس کام کو لے لے گا اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے تو پھر وہ یہ نہیں دیکھا کرتا کہ اس کا اثر دوسروں پر کتنا شدید اور کتنا ہیبت ناک پڑتا ہے۔جب تم اپنے گھروں میں آگ جلاتے ہو تو تم یہ احتیاط کر لیا کرتے ہو کہ وہ آگ تمہارے اسباب کو نہ لگے بلکہ صرف چولہے تک ہی محدود رہے۔تم کبھی اس امر کو برداشت نہیں کر سکتے یا اس قسم کی کوئی بے احتیاطی اختیار نہیں کر سکتے جس کے نتیجے میں وہ آگ چولہے سے نکل کر تمہارے اسباب کو لگ جائے اور اسباب کے بعد تمہارے گھر کو جلا دے اور گھر کو جلانے کے بعد تمہارے ہمسایوں کے مکانات اور ان کے اسباب کو جلانا شروع کر دے۔لیکن یہی آگ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے لگتی ہے تو وہ کس طرح وسیع علاقہ میں پھیل جاتی اور کس قدر مال و اسباب کا نقصان کر دیتی ہے۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کہیں آگ لگتی ہے تو بسا اوقات وہ گھر کا تمام مال و اسباب جلا دیتی ہے، بسا اوقات نہ صرف ایک گھر کا مال و اسباب جلا دیتی ہے بلکہ ہمسایوں کے مکانات اور ان کے مال و اسباب کو بھی جلا دیتی ہے، پھر بسا اوقات وہ سارا محلہ جلادیتی ہے اور بسا اوقات سارے شہر کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے میں نے خود اپنے کانوں سے یہ مضمون بارہا سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قسم کے ابتلاء آیا کرتے ہیں۔ایک تو وہ ابتلاء ہوتے ہیں جن میں بندے کو اختیار دیا جاتا ہے کہ تم اس میں اپنے آرام کیلئے خود کوئی تجویز کر سکتے ہو۔چنانچہ اس کی مثال میں آپ فرماتے دیکھو! وضو بھی ایک ابتلاء ہے سردیوں کے موسم میں جب سخت سردی لگ رہی ہو ٹھنڈی ہوا چل رہی اور ذراسی ہوا لگنے سے بھی انسان کو تکلیف ہوتی ہو خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کو حکم ہوتا ہے کہ نماز پڑھنے سے پہلے وضو کر و۔بسا اوقات جب نماز کا وقت ہوتا ہے اُس وقت گرم پانی نہیں ہوتا یا بسا اوقات اسے گرم پانی میسر تو آسکتا ہے مگر اُس وقت تیار نہیں ہوتا۔پھر بسا اوقات اسے گرم پانی میسر ہی نہیں آسکتایخ بستہ پانی ہوتا ہے اور اسی پانی سے اُسے وضو کر کے نماز پڑھنی پڑتی ہے۔آپ فرمایا کرتے یہ بھی ایک ابتلاء ہے جو اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کیلئے رکھ دیا مگر فر مایا یہ ایسا ابتلاء ہے جس میں بندے کو اختیار دیا گیا ہے یعنی اسے اس بات کی اجازت دی گئی