خطبات محمود (جلد 17) — Page 660
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ کے قاتلوں سے جنگ کریں گے اور آپ لوگوں میں سے جو چاہیں میرے ہاتھ پر اس وقت بیعت کریں کہ اگر ایسی جنگ ہمیں کرنی پڑی تو وہ میدانِ جنگ سے بھاگے گا نہیں بلکہ فتح کے بغیر کوٹے گا نہیں ) اس بیعت کو بیعت رضوان کے علاوہ موت کی بیعت بھی کہتے ہیں)۔صحابہ آئے اور بیعت کیلئے ایک دوسرے پر گرنے لگے کشی کہ بعض کو تو اتنا جوش تھا کہ وہ تلوار سے دوسرے کو پیچھے ہٹا کر خود بیعت کیلئے آگے بڑھنا چاہتے تھے۔اتفاقاً حضرت عمرؓ اُس وقت کہیں اِدھر اُدھر ہو گئے تھے لیکن ان کے لڑکے عبد اللہ بن عمر موجود تھے انہوں نے خود ایک موقع پر بیان کیا کہ ایک نیکی میں اگر میں چاہتا تو اپنے باپ سے آگے بڑھ جاتا اور وہ موقع بیت رضوان کا تھا۔جب یہ بیعت شروع ہوئی تو میں نے ادھر اُدھر دیکھا حضرت عمر وہاں موجود نہ تھے میں ان کی تلاش میں چلا گیا اور جب تلاش کر کے لایا تو اُس وقت بہت سے لوگ بیعت کر چکے تھے میں اگر اپنے باپ کو شریک کرنے کی کوشش نہ کرتا تو سابقون میں ہوتا۔تو مؤمن ضرور کوشش کرتا ہے کہ عزیز واقرباء کو نیکی میں شریک کرے ورنہ خدا تعالیٰ کے کام نہ کسی کے شریک ہونے سے مکمل ہوتے ہیں اور نہ کسی کے شریک نہ ہونے سے رہ جاتے ہیں۔کئی منافق طبع اور کمزور ایمان والے یہ کہہ دیں گے کہ ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ روپیہ کے بغیر یا آدمیوں کے بغیر کام ہو جائے اور میں تصدیق کرتا ہوں کہ ان کا یہ اعتراض صحیح ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا تمہارا دیکھا ہی سب کچھ ہے اور اگر تمہیں اس میدان کی خبر ہو جو روحانیت کا میدان ہے تو تمہیں پتہ لگے کہ وہاں یہ سوال نہیں ہوتا۔انسان ایک رؤیا دیکھتا ہے کہ وہ آسمان پر ہے اور خدا کے حضور پیش ہے مگر تمہیں کیا نظر آتا ہے صرف یہی کہ وہ خراٹے لے رہا ہے۔اسی طرح روحانیت کے مقام کی اس شخص کو کیا خبر ہو سکتی ہے جو وہاں گیا ہی نہیں۔تم بے شک کہہ سکتے ہو کہ جب ہم نے دیکھا ہی نہیں تو کیسے مان لیں۔مگر یہ بھی تو سوچو کہ وہ روپیہ اور وہ آدمی کہاں۔ނ آتے ہیں جس سے کام ہوتا ہے۔جس کی عقل ہو وہ جانتا ہے کہ خدا ہی لاتا ہے پھر وہ آدمی کہاں ہوئے جو کام کرتے ہیں وہ خدا ہی ہوا اور وہ روپیہ کہاں ہوا وہ بھی خدا ہی ہوا۔ہماری جماعت کی جو کمزور حالت ہے وہ ظاہر ہے مگر سات کروڑ مسلمانوں کا کوئی ایک بھی ادارہ ہے جس میں غرباء سے اتنا روپیہ آتا ہو جتنا ہماری جماعت جمع کرتی ہے؟ بے شک امراء کے بعض کا لج وغیرہ ہیں مگر