خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 655 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 655

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۴۶ سال ۱۹۳۶ء بہر حال انہیں کبھی کبھی جوش آتا ہے اور ہمارے کام ہزاروں ہیں اور پھر مستقل ہیں ایک دن کے کام نہیں کہ آج کیا اور کل چھوڑ دیا۔ بلکہ انہیں مسلسل کرتے چلے جانا ہے پھر ہم نے کسی ایک قوم کا یا ایک ملک کا نہیں بلکہ ساری دنیا کا مقابلہ کرنا ہے اگر مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کے خلاف ہم ٹریکٹ شائع کریں تو دنیا میں اس وقت دو ارب کی آبادی ہے اگر ہم ساری دنیا کو یہ بتانا چاہیں کہ ہم مظلوم ہیں اور دو سو آدمیوں کیلئے صرف ایک ٹریکٹ رکھیں تو ہمیں ایک کروڑ ٹریکٹ شائع کرنا پڑے گا اور ایک کروڑ ٹریکٹ شائع کرنے کیلئے کم از کم دس لاکھ روپیہ کی ضرورت ہوگی اور چونکہ ہمارے اس ایک ٹریکٹ سے مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کی تردید کی ضرورت پوری نہیں ہوگی اس لئے اور اشتہارات اور ٹریکٹ بھی شائع کرنے کی ضرورت رہے گی ۔ اب جب کہ دس لاکھ روپیہ سے صرف ایک ٹریکٹ شائع کیا جا سکتا ہے تو خود ہی سوچیں ہماری غریب جماعت اس خرچ کی کہاں متحمل ہوسکتی ہے اور اگر ہم باقی دنیا کو چھوڑ کر صرف ہندوستان میں اس فیصلہ کی تردید کی کثرت سے اشاعت کریں تب بھی پچاس ساٹھ ہزار روپیہ کی ضرورت ہے اور اگر صرف شہر لاہور میں اچھی طرح اشاعت کریں تب بھی سو دو سو روپیہ خرچ ہو جائے گا لیکن اگر ایک آدمی مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کے متعلق ہائی کورٹ کے فقرات اسی قسم کے سینڈوچ بورڈ پر لکھوا کر یا ایک پھٹے پر لکھ کر اور اسے اپنے ہاتھ میں لے کر یا سائیکل پر رکھ کر پھرتا رہے تو چار آنے کے خرچ سے وہ سارے لاہور کو آگاہ کر سکتا ہے۔ اب یہ بے حکمت کام نہیں بلکہ پُر حکمت کام ہے کیونکہ اس ذریعہ سے ہم دوسرے لوگوں ہے تک اپنی آواز بھی پہنچا دیں گے اور خرچ زیادہ نہیں ہوگا ۔ پس یہ فعل وقار کے خلاف نہیں بلکہ وقار کے عین مطابق ہے۔ اگر ہم اس تشریح کو مد نظر نہ رکھیں جو میں نے کی ہے تو پھر وقار کے یہ معنی ہوں گے کہ انسان کام کاج چھوڑ کر بیٹھ جائے نہ ہاتھ ہلائے نہ پاؤں ۔ مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کی تردید کی اشاعت کیلئے اس قسم کی اور تجاویز بھی استعمال کی جاسکتی ہیں لیکن چونکہ میرا اصل خطبہ وقار کے متعلق ہے مسٹر کھوسلہ کے متعلق نہیں اس لئے میں نے ایک مثال بتادی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ضرورتیں ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ ہم تمام ایسے طریق اختیار کریں جو عام حالات میں یا روپیہ ہونے کی صورت میں گو وقار کے خلاف سمجھے جا سکتے ہوں مگر ہماری موجودہ حالت کے لحاظ سے ہرگز نہیں ۔ اگر ہمارے پاس کافی روپیہ آجائے یا ہر شخص ہم میں سے پڑھا لکھا اور مقرر ہو تو پھر ایسے