خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 644 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 644

خطبات محمود ۶۴۴ سال ۱۹۳۶ برحل ہو اور لوگوں کا فائدہ اس میں مدنظر ہو تو وہ وقار والا کام کہلائے گا اور اگر حکمت کو مد نظر نہ رکھا جائے تو خلاف وقار فعل ہو جائے گا۔غرض اچھے بھلے سمجھدار آدمیوں کا اپنے لوگوں میں ہی اس قسم کی ٹوپیاں پہن کر پھرنا جن پر بعض مختصر فقرات لکھے ہوئے ہوں جن کا مطلب بھی لوگ نہ سمجھ سکیں خلاف وقار ہے مگر ایک کوٹ بنوا کر کسی گونگے یا ان پڑھ کا پہن لینا تا کہ وہ اپنے کپڑوں سے ہی لوگوں کو اصل حقیقت کی طرف متوجہ کرتا رہے ایک باوقار کام ہے۔غرض کام کے لحاظ سے، کام کرنے والے کے لحاظ سے اور موقع اور محل کے لحاظ سے وقار والے کاموں اور غیر وقار کاموں کی نوعیت بدلتی چلی جاتی ہے۔مثال کے طور پر یوں سمجھ لو ایک راج ہے وہ کسی کا مکان بنانے کیلئے ہمیشہ گونگا تا اور بانسوں پر تختے رکھ کر اُن پر بیٹھ کر کام کرتا ہے اور کسی کے وہم میں بھی نہیں آتا کہ اُس کا یہ فعل وقار کے خلاف ہے لیکن کسی کے مکان کے پاس اسی طرح بانس گاڑ کر اور اس پر تختے بچھا کر اگر سلسلہ کا کوئی عالم بیٹھ جائے تو جو شخص بھی وہاں سے گزرے گا ہنسے گا اور کہے گا کیسی خلاف و قار حرکت ہے۔اب راج کو لوگ روز دیکھتے ہیں کہ وہ تختوں پر بیٹھ کر کام کر رہا ہے مگر کبھی انہیں خیال نہیں آتا کہ یہ وقار کے خلاف امر ہو رہا ہے اس لئے کہ ان کی فطرت اس موقع پر بولتی اور کہتی ہے کہ راج کا یہ فعل با موقع اور برمحل ہے اور اس میں بنی نوع انسان کا فائدہ ہے لیکن ایک سلسلہ کے عالم کا اس طرح بیٹھ رہنا چونکہ بالکل بے فائدہ ہوگا اس لئے سب اسے لغو اور خلاف وقار فعل کہنے لگ جائیں گے۔غرض وقار کے یہ بالکل غلط معنی ہیں کہ چونکہ ہمیں ایک کام کرنے یا اس کے دیکھنے کی عادت نہیں اس لئے اس کام کو جاری نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اگر ہم اس تعریف کو درست سمجھیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم سلسلہ کی ترقی کے راستہ میں روکیں پیدا کرتے ہیں۔پس اپنی عادات کے خلاف کسی کو چلتے دیکھنا بے وقاری نہیں بلکہ حکمت کے خلاف کام کرنا بے وقاری ہے۔کوئی شخص اگر ایک جلس میں کھڑا ہو کر ایک پاؤں پر ناچنے لگ جائے تو سب کہیں گے اسے اپنے وقار کا کوئی خیال نہیں لیکن اگر ایک اور شخص جو کسی ضرورت کیلئے دھوپ میں کھڑا کر دیا گیا ہے تپتی ہوئی زمین کی گرمی برداشت نہ کر کے کبھی ایک پاؤں اٹھائے اور کبھی دوسرا تو کوئی اسے وقار کے خلاف فعل قرار نہیں دے گا۔غرض قرآن مجید نے وقار کے معنے یہ بتائے ہیں کہ انسان حکمت عقل اور دانائی کے