خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 645 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 645

خطبات محمود ۶۴۵ سال ۱۹۳۶ ماتحت کام کرے اس میں سکون کے معنے آجاتے ہیں کیونکہ عقل اور دانائی کے ماتحت جب کوئی کام کی کیا جائے تو وہ جوش انسان میں نہیں ہوگا جو اُس کے عقلی توازن کو متزلزل کر دیتا ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ عادات کے خلاف کام کرنا بھی بعض دفعہ وقار کے خلاف کہلا سکتا ہے اور یہ اس موقع پر ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے قومی طریق کو بلا وجہ اور بلا حکمت چھوڑ دے۔مثلاً اپنے قومی لباس یا قومی تمدن کو ہلا کسی خاص مقصد یا حکمت کے چھوڑ دے تو ایسے شخص کو بھی وقار کے خلاف کام کرنے والا قرار دیں گے کیونکہ وہ بلا وجہ ساری قوم کو اپنا دشمن بنالیتا ہے۔اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہو تو بے شک اس طریق کو وہ چھوڑ سکتا ہے لیکن اگر وہ بغیر کسی معقول وجہ کے اپنے قومی طریق کو چھوڑتا ہے تو وہ یقیناً لوگوں میں بلا وجہ ہیجان پیدا کرتا ہے اور بے وقار فعل کا مرتکب ہوتا ہے۔اگر ایک قوم فیصلہ کر لیتی ہے کہ ہم نے پگڑی ہی پہنی ہے تو کسی شخص کے پگڑی پہننے میں کیا حرج ہے کہ وہ ٹوپی پہن کر اپنی قوم میں ہیجان پیدا کرے۔جب دونوں اچھی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ جماعت کے افراد وہ چیز اختیار نہ کریں جسے سب قوم نے پسند کیا ہے۔غرض بلا وجہ ایسی قومی عادات کو چھوڑنا جن میں عقلاً اور شرعاً کوئی خاص نقص نہیں اور اپنے لئے قوم کے خلاف کوئی دوسری راہ تلاش کرنا بھی خلاف وقار کام ہے کیونکہ اس سے طبائع میں بلا وجہ جوش پیدا ہوتا ہے۔ایک دفعہ جب مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کے متعلق مجھ سے مشورہ لیا گیا تو میں نے پوچھنے والوں کو انہی معنوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بتایا کہ اشتہاروں والے اپنے اشتہارات لوگوں میں وسیع طور پر پھیلانے کا یہ انتظام کرتے ہیں کہ ایک آدمی کے آگے پیچھے بورڈ لگا دیتے ہیں جس کے درمیان دو ڈنڈے لگے ہوئے ہوتے ہیں اس بورڈ پر اخبار والے اپنا اشتہار لگا دیتے ہیں اور ایک آدمی ان بورڈوں کو لے کر چکر کا تھا پھرتا ہے۔انگلستان میں اس قسم کے بورڈوں کو سینڈ وچ بورڈ کہتے ہیں دو پھٹے آگے پیچھے ہوتے ہیں اور ان پر اُس دن کے اخبار کا خلاصہ لکھا ہوتا ہے اور ایک شخص اسے اُٹھائے پھرتا ہے۔وہ بازاروں میں پھرتا رہتا ہے اور اس بورڈ کو پڑھ پڑھ کر لوگ اخبار خریدتے اور پڑھتے ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ ہم غریب ہیں اور دشمن امیر ، پھر ہمارے مستقل کام ہزاروں چل رہے ہیں جن پر ماہوار ہزاروں روپیہ خرچ ہوتا ہے اس کے مقابلہ میں ہمارے دشمنوں کو کبھی کبھی جوش آتا ہے اور وہ بعض دفعہ بہت زیادہ روپیہ بھی اکٹھا کر لیتے ہیں لیکن