خطبات محمود (جلد 17) — Page 636
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۲۷ سال ۱۹۳۶ء یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص سچائی کا پابند نہ ہو، وہ جھوٹ کا عادی ہو اور خلاف واقعہ باتیں لوگوں میں کہتا پھرتا ہو لیکن سچائی کے معنوں میں وہ اختلاف نہیں کرے گا۔ فرض کرو اس نے کسی کو مارا پیٹا ہے اور اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے فلاں شخص کو مارا ؟ اس کے جواب میں ممکن ہے وہ کہہ دے مجھے خدا کی قسم ! میں تو وہاں پر موجود ہی نہ تھا مجھے تو علم ہی نہیں کہ کیا واقعہ ہوا۔ میری تو اس سے کوئی دشمنی اور عداوت ہی نہیں کہ مجھے اُسے پیٹنے کی ضرورت ہوتی ۔ اب وہ جھوٹ تو بول رہا ہوتا ہے مگر اس حالت میں بھی وہ سچ کے معنے سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ سچ کسے کہتے ہیں اور جھوٹ کیسے۔ اور یہ تعریف مشرق سے لے کر مغرب تک سب لوگ یکساں طور پر جانتے ہیں ۔ ایک انگریز سے پوچھو کہ سچ کے کیا معنے ہیں تو وہ یہی جواب دے گا کہ کسی امر کو وقوعہ کے مطابق بیان کرنے یا سمجھنے کو سچ کہتے ہیں ، ایک جرمن کے پاس چلے جاؤ وہ بھی یہی جواب دے گا ، ایک ترک کے پاس چلے جاؤ وہ بھی یہی جواب دے گا ، ایک عرب کے پاس چلے جاؤ وہ بھی یہی جواب دے گا ، ایک ایرانی سے پوچھ دیکھو وہ بھی سچ کی یہی تعریف بتائے گا ، ایک افغانی سے دریافت کرو وہ بھی سچ کی یہی تعریف بتائے گا ، ایک ہندوستانی سے پوچھو وہ بھی اسی تعریف کا قائل نظر آئے گا ، پھر چین کی طرف نکل جاؤ ، جاپان کی طرف چلے جاؤ ، امریکہ کے لوگوں کے پاس پہنچ جاؤ وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ سیچ اسے کہتے ہیں کہ کوئی بات خلاف واقعہ نہ بیان کی جائے مگر وقار کے متعلق لوگوں سے پوچھ دیکھو تو اس کی تعریف میں سینکڑوں جگہ اختلاف نظر آجائے گا ۔ ایک کہے گا فلاں بات تو بالکل وقار کے خلاف ہے اور دوسرا کہہ رہا ہوگا کہ یہ بات کہاں وقار کے خلاف ہے اس میں تو کوئی حرج نہیں لیکن سچ کے متعلق اس قسم کا اختلاف نہیں ہو سکتا ۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کہے جھوٹ کے بغیر دنیا میں گزارہ نہیں ہو سکتا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کہے ہر شخص دنیا میں اپنا فائدہ چاہتا ہے جب میرا فائدہ جھوٹ بولنے میں ہے تو میں کیوں سچ بولوں مگر یہ کہ سچ کس کو کہتے ہیں اور جھوٹ کس کو اس میں اختلاف نہیں ہوگا ۔ گویا سچ کے موٹے معنوں میں کوئی شخص اختلاف نہیں کر سکتا گو باریک اور تفصیلی امور میں اختلاف ہو جاتا ہے مگر وقار کے متعلق قدم قدم پر لوگوں میں اختلاف نظر آجائے گا ۔ ایک مالدار شخص جو پورا لباس پہننے کا عادی ہے اور جس کے جسم کے ہر حصہ پر کوئی نہ کوئی چیز موجود ہوتی ہے اگر وہ کسی دن گر تہ اُتار کر بازار چلا جاتا ہے تو اس کے