خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 623 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 623

خطبات محمود ۶۲۳ سال ۱۹۳۶ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے میں نے ایک حصہ کے متعلق اپنے خیالات کا گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں ہی اظہار کر دیا تھا لیکن ساتھ ہی اس خوف کا بھی اظہار کیا تھا کہ ایسا نہ ہو وقار کے لفظ کے نتیجہ میں جماعت میں سستی اور غفلت پیدا ہو جائے یا وہ کوئی ایسا طریق اختیار کرے جو احمدیت کے منشاء، اسلام کے منشاء اور قرآن مجید کے منشاء کے خلاف ہو اور اس طرح وہ خدمتِ اسلام اور خدمت احمدیت سے محروم ہو جائے اس لئے میں نے گزشتہ جمعہ میں ہی کہا تھا کہ چونکہ آج وقت بہت گزر چکا ہے اس لئے اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق عطا فرمائی تو میں اگلے خطبہ جمعہ میں اس مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات کو تفصیل کے ساتھ بیان کروں گا۔سو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اُس کی مدد سے اپنے اس وعدہ کے مطابق میں آج وقار کے متعلق بعض باتیں بیان کرنی چاہتا ہوں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں قرآن کریم میں وقار کا لفظ صرف ایک دفعہ استعمال ہوا ہے اور وہ استعمال سورۃ نوح کی ان آیات میں ہوا ہے جن کو ابھی میں نے پڑھا ہے۔موجودہ زمانہ میں تعلیم یافتہ لوگ اور امراء اپنے بہت سے کاموں کی بنیاد یا یوں کہو کہ عدم عمل کی بنیا د وقار پر رکھا کرتے ہیں اور غرباء اور غیر تعلیم یافتہ لوگ اس لفظ کو بہت کم استعمال کرتے ہیں اور اس لفظ کے کوئی معنے ان کے ذہن میں نہیں ہوتے۔پس ہمارے ملک میں عام محاورہ کے لحاظ سے یہ لفظ غرباء اور امراء اور تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان ایک حد فاصل ہے۔جب تم کسی امیر شخص سے ملو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ جب بھی کوئی ایسی بات ہو جو اُس کی طبیعت کے اور اُس کی منشاء کیخلاف ہو وہ فوراً کہہ دے گا یہ کیسی بیہودہ بات ہے یہ تو وقار کے صریح خلاف ہے۔اسی طرح جب کسی تعلیم یافتہ شخص سے تم ملوتو معمولی گفتگو اور ادھر اُدھر کی چند باتوں کے دوران میں ہی تم اُس سے یہ سن لو گے کہ فلاں بات تو وقار کے بالکل خلاف ہے لیکن اس طبقہ کو چھوڑ کر اگر تم غرباء میں چلے جاؤ تو تمہیں اس لفظ کا استعمال بہت کم بلکہ قریباً قریباً مفقو د نظر آئے گا۔وہاں بالعموم لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ میں یوں کر دوں گا، میں یوں کر دوں گا یہ کوئی نہیں کہے گا کہ میں فلاں بات کیوں کروں یہ وقار کے خلاف ہے۔انہیں اگر کوئی بات نا پسند بھی ہو تو اس کی بُرائی ظاہر کرنے کیلئے وہ یہ نہیں کہیں گے کہ یہ وقار کے خلاف ہے بلکہ وہ اتنا کہنا ہی کافی سمجھتے ہیں کہ فلاں بات ہم نہیں کر سکتے گویا ہمارے ملکی محاورہ کے مطابق یہ لفظ بہت سا انحصار غریب اور امیر کے