خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 618

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ٦٠٩ سال ۱۹۳۶ء چاہئے اس جگہ سلسلہ احمدیہ اور اس کے بزرگوں کے متعلق توہین آمیز کلمات کا استعمال کسی کیلئے جائز نہیں ۔ ہمیں اس بات پر ہرگز اعتراض نہیں اگر کوئی اور قوم کسی اور شہر کو اپنا مقدس مقام سمجھتی ہے تو اس شہر کے متعلق بھی اسی قسم کا قانون نافذ کر دیا جائے اگر ہندو کہیں کہ ہر دو آریا بنارس ان کا مقدس مقام ہے یاسنی کسی شہر کو اپنا مقدس مقام قرار دے لیں یا شیعہ کسی شہر کو مقدس مقام قرار دے لیں اور اس طرح اپنے لئے ایک ایک شہر چُن کر اس کے متعلق اس قسم کا قانون بنوالیں تو ہمیں اس پر ہرگز اعتراض نہیں ہو گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ قادیان میں کسی مذہب والے کا اپنے مذہب کی تلقین کرنا ہم نا پسند کرتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے مذہب کی تبلیغ کرنا چاہتا ہے تو بے شک وہ آئے اور تقریر کرے لیکن تہذیب و شائستگی کے ساتھ ۔ ایسے مہذب لیکچراروں کیلئے میں آپ انتظام کرنے کیلئے تیار ہوں بلکہ اسی مسجد میں انہیں لیکچر کی اجازت دے سکتا ہوں لیکن غیر شریفانہ رنگ میں اگر کوئی شخص کسی حرکت کا ارتکاب کرتا ہے تو اُس کی اس حرکت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا ممکن ہے کہ کوئی شخص کہے کہ تمہارا تو ایک مرکز ہے جس کی وجہ سے گورنمنٹ سے اس قانون کا مطالبہ کرتے ہو لیکن ہم کیا کریں سو ایسے لوگوں سے میں کہتا ہوں تم بھی ایک مرکز بنا لو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا مگر یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے مرکز کے متعلق کسی قانون کا مطالبہ نہ کریں یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کسی لومڑ کی دُم کٹ گئی تھی تو اُس نے سب لومڑوں کو مشورہ دیا کہ ہمیں اپنی دمیں کٹوا دینی چاہئیں ۔ اگر کسی قوم کا کوئی مذہبی مرکز نہیں تو ہم کیوں اپنا حق چھوڑ دیں اور اگر اسے اس سے تکلیف ہوتی ہے تو وہ اپنا بھی ایک مرکز بنالے۔ ہم خصوصیت سے خیال رکھیں گے کہ ہماری جماعت کا کوئی شخص وہاں جا کر ایسا رنگ اختیار نہ کرے جو دل آزار ہو۔ پس اگر ایسے مراکز ہر قوم تجویز کرلے تو ہمیں اس پر ہرگز اعتراض نہیں ہو گا مگر بہر حال قادیان ہمارا مقدس مذہبی مرکز ہے اور اس جگہ احمدیت یا احمدیت کے بانی یا احمدیت کے بزرگوں کے خلاف کسی قسم کی تضحیک یا تمسخر سننے کیلئے ہم تیار نہیں اور یہ مطالبہ ہمارا اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک گورنمنٹ ان لوگوں کو روکتی نہیں جو یہاں آکر گالیاں دیتے ہیں ۔ مولوی عطاء اللہ سے ہمیں کوئی بغض نہیں نہ انہوں نے ہمارا مال پھرایا ہے کہ انہیں کی بد زبانی ہمیں تکلیف دیتی ہو اور اگر مولوی عنایت اللہ یا شیخ تاج دین صاحب گالیاں دیں تو وہ