خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 604

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۹۵ سال ۱۹۳۶ء سارے نشانات ہی پُرانے ہیں یا ان میں سے کوئی نیا نشان بھی ہے۔ انہوں نے خود تو مجھے اپنی تحقیق کی اطلاع نہیں دی لیکن میں نے سنا ہے دیکھنے پر وہ سب نشانات پرانے ہی معلوم ہوئے ہیں۔ بہر حال وہ نشان اس وقت کے خیال کے مطابق زیر بحث نہیں آسکتے ۔ اس امر کا اندازہ کہ جو چیز پھینکی گئی تھی وہ کس زور سے گری تھی اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب میں نے موٹر کے روکنے کیلئے کہا کہ دیکھیں کیا چیز موٹر پر پھینکی گئی ہے تو اُس وقت ہمراہیوں میں سے ایک نے کہا کہ ٹائر برسٹ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے ٹائر برسٹ ہوتے سنا ہے وہ جانتے ہیں کہ اس کی اچھی بلند آواز ہوتی ہے۔ خیر موٹر کے کھڑا ہونے پر بعض دوست اُتر کر اس گھر کے اندر گھس گئے جس کے آگے کا ر ٹھہری تھی اور اُس کی چھت پر چڑھ کر حملہ آور کو دیکھنے لگے حالانکہ چھت پر چڑھتے چڑھتے حملہ آور دور تک نکل جا سکتا ہے۔ پہلے مجھے شبہ ہوا کہ ان دوستوں نے یہ خیال کیا ہے کہ اسی گھر سے چیز پڑی ہے اور اس پر میں نے دوسرے دوستوں سے کہا کہ یہ ان کی غلطی ہے موٹر تو آگے آچکی ہے لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ اس کی چھت پر چڑھ کر یہ دیکھنے گئے تھے کہ شاید اس چیز کا پھینکے والا نظر آجائے ۔ اس کے بعد چاروں طرف تلاش کی گئی مگر چیز پھینکنے والے کا کوئی پتہ نہ لگا ۔ یہ چیز ایک تو بائیں طرف کی گلی سے پھینکی جاسکتی تھی یا اس سے پہلے ایک کھولہ ہے وہاں سے پھینکی جا سکتی تھی اور ایک مکان ہے جو مقفل ہے اس مقفل مکان سے بھی چیز پھینکی جاسکتی تھی بشر طیکہ یہ سازش ہو کیونکہ جو لوگ جرائم کی حقیقت سے واقف ہیں جانتے ہیں کہ مجرموں کو گھروں میں داخل کر کے باہر سے تالا لگا دیا جاتا ہے اور اس طرح جرم کا سراغ لگنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ تحقیق کرنے والے جب وہاں سے گزرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس جگہ سے تو یہ جرم نہیں ہو سکتا کیونکہ یہاں قفل لگا ہوا ہے۔ پھر جب وہ پتہ لگانے سے مایوس ہو جاتے ہیں تو گھنٹہ دو گھنٹہ کے بعد لوگ آتے اور تالا کھول کر مجرم کو نکال لے جاتے ہیں ۔ تو اگر یہ فعل کسی سازش کا نتیجہ تھا تو ممکن ہے اس فعل کا ارتکاب اس مقفل گھر سے ہی ہوا ہو لیکن مقفل گھر کو کھولنا قانون کے خلاف ہے اور پولیس ہی ایسا کر سکتی تھی جو وہاں موجود نہ تھی۔ تلاش کے وقت بھی میں نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ممکن ہے اس گھر سے چیز پھینکی گئی ہو۔ بہر حال جب لوگ تلاش کر چکے اور انہیں کوئی آدمی نظر نہ آیا تو کسی ہمارے دوست نے کہا کہ تلاش تو کرو وہ چیز جو گری ہے کیا اور کہاں ہے؟ اُس وقت تک سب