خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 604

خطبات محمود ۶۰۴ سال ۱۹۳۶ پابندی عائد کر سکتے ہو کہ جس گاؤں میں ہندو زیادہ ہوں اُس میں مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کی اجازت نہیں ، تم یہ تو پابندی عائد کر سکتے ہو کہ جس گاؤں کے ہندو مالک ہوں اُس گاؤں میں مسلمان گائے ذبح نہیں کر سکتے ، تم یہ تو پابندی عائد کر سکتے ہو کہ جن گاؤں کو ہندوؤں نے آباد کیا ہو ان میں مسلمان گائے ذبح نہیں کر سکتے ، ہاں جن گاؤں کو مسلمانوں نے آباد کیا ہو یا مسلمان ان میں کثرت سے رہتے ہوں یا مسلمان اب گاؤں کے مالک ہوں وہاں کے مسلمانوں کو گائے ذبیح کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔چنانچہ یہ مجھوتہ ہندو اور مسلمان منسٹروں نے مل کر سر میلکم ہیلی یا سرمیکلیکن کے زمانہ میں کیا تھا ( میرا غالب خیال یہ ہے کہ سر میلکم ہیلی کے زمانہ میں ہی یہ تجویز منظور کی گئی تھی ) بہر حال ان دونوں گورنروں میں سے کسی ایک کے زمانہ میں یہ اصول تجویز کیا گیا تھا لیکن جب یہ اصول طے ہو چکا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وہی اصول یہاں کیوں نہیں برتتے۔قادیان میں احمدیوں کی آبادی زیادہ ہے، قادیان میں احمدیوں کی اکثریت ہے اور قادیان احمدیوں کا مقدس مقام ہے پس ہر گز کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ یہاں آکر احمد یوں کا دل دکھائے خصوصاً گالیاں دے کر اور بد زبانی کر کے۔پھر گائے ذبح کرتے ہوئے کسی کو کوئی گالی نہیں دیتا مگر آپ ہی آپ دل دُکھنے لگ جاتے ہیں اور گورنمنٹ کا دل بھی اس دُکھ کے خیال سے دھڑ کنے لگ جاتا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ گورنمنٹ کا دل عدل اور انصاف کے جذبات سے پُر ہونا چاہئے اور اسے ہمارے دلوں کے دُکھنے پر بھی دھڑکنا چاہئے۔اس کا دل ہندوؤں کا دل دُکھنے پر دھڑکتا ہے، اس کا دل سکھوں کا دل دُکھنے پر دھڑکتا ہے، اس کا دل عیسائیوں کے دل دُکھنے پر دھڑکتا ہے پھر کیوں احمدیوں کیلئے اس کا دل نہ دُکھے۔ایک تازہ مثال لکھنو کی ہی لے لو وہاں گورنمنٹ نے حکم دیا ہوا ہے کہ صحابہ کی تعریف بازاروں میں نہ کی جائے اور نہ ان کی مدح میں جلسے کئے جائیں کیونکہ اس سے شیعوں کا دل دکھتا ہے۔احراری وہاں مدح صحابہ کے نام پر آجکل ایجی ٹیشن کر رہے ہیں اور حکومت اُن کو گرفتار کر رہی ہے کہ اس فعل سے شیعوں کا دل دُکھتا ہے۔اب کیا یہ لطیفہ نہیں کہ حکومت برطانیہ کے ماتحت ایک جگہ تو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے بزرگوں کی تعریف نہ کرو کیونکہ اس سے شیعوں کا دل دُکھتا ہے اور دوسری جگہ اور پھر ایسی جگہ جو ایک جماعت کا مقدس مقام ہے بعض لوگوں کو کھلا چھوڑ دیا جاتا