خطبات محمود (جلد 17) — Page 566
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ بغیر سمجھ ہی نہیں سکتا اور خصوصاً کامل توحید کیلئے رسالت کامل یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی رسال کا سمجھنا ضروی ہے۔غرض جب تک انسان آنحضرت ﷺ میں بالکل محو نہ ہو جائے تو حید کامل کو نہیں سمجھ سکتا اور نہ اس کے تفصیلی جلوہ یعنی قرآن مجید کو سمجھ سکتا ہے۔وہ لوگ جو رسول کریم ﷺ میں محو ہو کر تو حید کو نہیں سمجھتے باوجود عقل کے شرک میں مبتلاء رہتے ہیں جیسے کہ مسیحی ، ہندو، یہودی وغیرہ ہیں اور اسی طرح بہت سے مسلمان کہلانے والے جو پیروں اور فقیروں کو ہی اپنا خدا بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کی ایک ہمشیرہ نے ایک فقیر کی بیعت کی ہوئی تھی حضرت خلیفہ اول نے کی ایک دفعہ اس کو کہا کہ اپنے پیر صاحب سے جا کر یہ پوچھو کہ آپ کی بیعت سے مجھے کیا فائدہ ہے؟ وہ اس فقیر سے پوچھنے گئیں۔جب واپس آئیں تو آپ نے دریافت فرمایا کہ سناؤ کیا جواب ملا ؟ کہنے لگیں پیر صاحب خفا ہو کر بولے کہ تجھے یہ سوال ضرور مولوی نورالدین صاحب نے ہی سمجھایا ہوگا جا کر ان سے کہہ دے کہ ہماری بیعت میں آنے والے مریدوں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ قیامت کے روز جب ہمارے مریدوں سے خدا تعالیٰ حساب لینے لگے گا تو ہم آگے بڑھ کر کہہ دیں گے کہ ان کا حساب ہم سے لینا ان سے نہ پوچھو۔اس کے بعد مرید تو دوڑ کر جنت میں جا داخل ہوں گے اس نے کے بعد جب اللہ تعالیٰ ہم سے پوچھے گا تو ہم کہیں گے کہ کیا ہمارے باپ امام حسین کی قربانی کافی نہ تھی کہ اب ہمیں دق کیا جاتا ہے۔پس اس پر خدا تعالیٰ خاموش ہو جائے گا اور ہم جنت میں چلے جائیں گے۔یہ سب لغو خیالات اسی لئے پیدا ہوئے کہ لوگوں نے خدا تعالیٰ کو محمد رسول اللہ میں ہو کر نہیں دیکھا۔اگر وہ خدا تعالیٰ کومحمد رسول اللہ کی عینک میں سے دیکھتے تو اس کی ایسی بُری صورت نظر نہ آتی اور توحید سے دُور نہ جا پڑتے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بغیر تو حید انسان پر کھل ہی نہیں سکتی۔چنانچہ دیکھ لو جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت ﷺ میں محو ہو گئے اور ان میں محو ہونے کے بعد قرآن مجید پر غور کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن مجید میں سے یہ نظر آ گیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور اُن کو زندہ ماننا شرک ہے۔حضور سے قبل لاکھوں عالم اور فقیہہ موجود تھے لیکن کسی کو قرآن مجید میں یہ بات نظر نہ آئی بلکہ وہ تو حضرت عیسیٰ