خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 565

خطبات محمود ۵۶۵ سال ۱۹۳۶ جس سے تو حید دیکھی جاسکتی ہے۔پس یہ لَا اِلهَ إِلَّا الله ایسی آیت ہے کہ اس میں بقرہ، آل عمران، نساء وغیرہ سب سورتیں شامل ہیں اور الحمد سے لے کر والناس تک کا کوئی مضمون اس سے باہر نہیں۔لیکن تو حید ایسی کو بار یک چیز ہے کہ اس کو ہر ایک نظر نہیں دیکھ سکتی۔ہاں ایک عینک ہے کہ اگر اس کو انسان اپنی آنکھوں پر لگالے تو وہ تو حید نظر آنے لگتی ہے اور وہ عینک آنحضرت ﷺ کا وجو دمبارک ہے اور اس میں کون شہبہ کر سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آنے سے ہی دنیا میں تو حید قائم ہوئی ورنہ آپ کی بعثت سے قبل تو بعض لوگوں نے حضرت عزیر، بعض نے حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بنا رکھا تھا، بعض لوگ ملائکہ کو معبود بنائے بیٹھے تھے اور ایسے خطر ناک زمانہ میں جس میں گویا سب کی آنکھیں کمزور ہو رہی تھیں صرف آنحضرت ﷺ کی عینک لگانے سے ہی لوگوں کو تو حید نظر آئی۔آنحضرت ﷺ سے قبل اور حضور کے زمانہ میں لاکھوں فلاسفر موجود تھے لیکن کسی کو تو حید کے علم کو بلند کرنے کا موقع نہ ملا بلکہ اس کے بر عکس فلسفیوں نے جو کچھ پیش کیا وہ شرک سے پر تھا پس حقیقت یہی ہے کہ ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشند خدای بخشنده به محض خدا تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات سے ہی دنیا میں تو حید قائم ہوئی اور یہی لَا اِلهَ إِلَّا اللہ ایسا مالٹو ہے جس کو ہم اپنی اذانوں کے ساتھ بلند آواز میں بیان کرتے ہیں اور جب کسی شخص کو اسلام میں لایا جاتا ہے تو اُس سے یہی لَا إِلهَ إِلَّا الله کہلوایا جاتا ہے کیونکہ حقیقی اسلام اسی کا نام ہے اور باقی تشریحات اور تفصیلات ہیں جو ساتھ چسپاں کر دی جاتی ہیں۔اور اگر کسی شخص میں دینی کمزوری پیدا ہوتی نظر آتی ہے تو اس کی بھی یہی وجہ ہوتی ہے کہ لا إِلهَ إِلَّا الله اس کے سامنے سے ہٹ گیا ہوتا ہے ورنہ لَا اِلهَ إِلَّا الله کے سامنے موجود ہونے سے انسان دینی کمزوریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور جب لَا إِلهَ إِلَّا اللہ آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تو زید کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے، عمر کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے اور بکر کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد کے جواب میں فرمایا تھا کہ تم کس طرح کہتے ہو کہ آنحضرت ﷺ کے بغیر بھی تو حید حاصل ہو سکتی ہے جبکہ تو حید کو انسان رسالت کے