خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 555

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۴۶ سال ۱۹۳۶ء چہرہ مبارک کی طرف کر دیا اور اس پر اتنے تیرا اور پتھر لگے کہ وہ ہاتھ ہمیشہ کیلئے بیکار ہو گیا۔ ایک دفعہ اُس صحابی سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے اس ہاتھ کو کیا ہوا ؟ تو انہوں نے بتایا کہ اس طرح آنحضرت ﷺ پر حملہ ہوا تھا اور میں نے یہ ہاتھ حضور علیہ السلام کے چہرہ کے آگے کر دیا اور اس پر اتنے تیر اور پتھر کھائے کہ یہ ہمیشہ کیلئے شل ہو گیا۔ اس نے دریافت کیا کہ کیا آپ کے منہ سے اف نہیں نکلتی تھی؟ انہوں نے کیا لطیف جواب دیا کہنے لگے تکلیف تو اتنی تھی کہ اُف نکلنا چاہتی تھی مگر میں نکلنے نہیں دیتا تھا کیونکہ اگر اُف کرتا تو ہاتھ ہل جاتا کوئی تیر رسول کریم ﷺ کو لگ جاتا۔ تو تم اس قربانی کا اندازہ کرو اور سوچو کہ تم میں سے آج اگر کسی کی انگلی کو زخم آجائے تو وہ کتنا شور مچاتا ہے مگر اس صحابی نے ہاتھ پر اتنے تیر کھائے کہ وہ ہمیشہ کیلئے خشک ہو گیا۔ صلى الله ایک اور ا ر صحابی کا بھی اسی قسم کا واقعہ ہے یہ بھی احد کے موقع کا ہے احد کی جنگ میں جب بعض صحابہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونے کے بعد پھر اکٹھے ہوئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو ! رض کون کون شہید اور کون کون زخمی ہوا ہے؟ اس پر بعض صحابہ میدانِ جنگ کا جائزہ لینے کیلئے گئے ۔ ایک صحابی نے دیکھا کہ ایک انصاری میدان میں زخمی پڑے ہوئے ہیں ۔ وہ ان کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کے بازو اور ٹانگیں کٹی ہوئی ہیں اور اُن کی زندگی کی آخری گھڑی قریب آ رہی ہے۔ اس پر وہ صحابی ان کے نزدیک ہوا اور ان سے پوچھا کہ اپنے عزیزوں کو کوئی پیغام پہنچانا ہو تو بتادیں میں پہنچادوں گا۔ اُس زخمی انصاری نے کہا کہ میں انتظار میں ہی تھا کہ کوئی دوست ادھر سے گزرے تو میں اُسے اپنے عزیزوں کے نام ایک پیغام دوں ۔ سو تم میرے عزیزوں کو میرا یہ پیغام پہنچادینا کہ محمد رسول اللہ ﷺ ایک قیمتی امانت ہیں جب تک ہم زندہ رہے ہم نے اپنی جانوں سے ان کی حفاظت کی اور اب کہ ہم رخصت ہو رہے ہیں میں امید کرتا ہوں کہ وہ ہم سے بھی بڑھ کر قربانیاں کر کے اس قیمتی امانت کی حفاظت کریں گے ہے۔ صلى الله غور کرو۔ موت کے وقت جبکہ وہ جانتے تھے کہ بیوی بچوں کو کوئی پیغام دینے کیلئے اب ان کیلئے کوئی اور وقت نہیں ۔ ایسے وقت میں جب انسان کو جائداد کے تصفیہ اور لین دین کے انفصال کا خیال ہوتا ہے اور جب لوگ اپنے پسماندگان کی بہتری کی فکر سے مشوش ہو رہے ہوتے ہیں اُس وقت بھی اس صحابی کو یہی خیال آیا کہ میں تو محمد رسول اللہ ﷺ کی حفاظت حفا میں جان دے الله