خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 549

خطبات محمود ۵۴۹ سال ۱۹۳۶ کامل محبت نہ تھی چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کو آنحضرت ﷺ کو دفن کرنے کا فکر نہ ہوا بلکہ آپ خلیفہ کے انتخاب میں مشغول ہو گئے مگر یہ معترض غلطی پر ہیں حضرت ابوبکر نے جو کچھ کیا وہ اس تعلیم کی حفاظت کیلئے کیا جو آنحضرت میں لائے تھے ورنہ حضرت ابو بکر کو جو بے مثل محبت رسول کریم ﷺ کے وجود سے تھی وہ مندرجہ ذیل واقعہ سے ظاہر ہے۔آنحضرت ﷺ نے اپنی وفات سے قبل ایک لشکر تیار کیا تھا کہ شام کے بعض مخالفین کو جاکر ان کی شرارتوں کی سزا دے۔ابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ آپ کی وفات ہوگئی۔آپ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے اور اکثر صحابہ نے اتفاق کر کے آپ سے عرض کیا کہ اس لشکر کی روانگی ملتوی کر دی جائے کیونکہ چاروں طرف سے عرب میں بغاوت کی خبریں آ رہی تھیں اور مکہ، مدینہ اور صرف ایک اور گاؤں تھا جس میں باجماعت نماز ہوتی تھی کہ لوگوں نے یہ مطالبہ شروع کر دیا تھا کہ ہم زکوۃ نہیں دیں گے۔پس صحابہ نے مشورہ کر کے حضرت عمرؓ کو حضرت ابو بکر کے پاس بھیجا کہ وہ کچھ عرصہ کیلئے اس لشکر کو روک لیں کیونکہ بوڑھے بوڑھے لوگ یا بچے ہی اگر مدینہ میں رہ گئے تو وہ باغی لشکروں کا مقابلہ کس طرح کر سکیں گے۔مگر حضرت ابو بکر نے ان کو جواب دیا کہ کیا ابو قحافہ کے بیٹے کی یہ طاقت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بھیجے ہوئے لشکر کو روک لے؟ کیا تم چاہتے ہو کہ آپ کی وفات کے بعد میں پہلا کام یہی کروں کہ جو لشکر آپ نے بھیجنا تجویز کیا تھا اسے روک لوں ؟ خدا کی قسم ! اگر باغی مدینہ میں داخل بھی ہو جائیں اور ہماری عورتوں کی لاشوں کو گھتے گھسیٹتے پھر میں جب بھی وہ لشکر ضرور جائے گا لے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر کو آپ سے کتنا عشق تھا مگر چونکہ آپ صدیقیت کے مقام پر تھے اس لئے جانتے تھے کہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم کی عظمت اس سے بھی زیادہ ہے۔پس ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم کو لیا اور اسے قائم رکھا حتی کہ دشمن بھی اقرار کرتے ہیں کہ اسے ذرہ بھر بھی نہیں بدلا گیا۔عیسائی، ہندو، یہودی غرضیکہ سب مخالف قو میں تسلیم کرتی ہیں کہ قرآن کریم کا ایک شوشہ بھی نہیں بدلا۔تبدیلی ابتدائی زمانہ میں ہی ہو سکتی تھی جب دوسری قوموں کی نظریں نہ پڑتی تھیں مگر ان لوگوں نے اپنی جانوں سے اس تعلیم کی حفاظت کی اور اس میں ایک شوشہ کا بھی تغیر نہ ہونے دیا نہ صرف لفظی بلکہ معنوی طور پر بھی۔اب اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا کہ تا آپ