خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 547

خطبات محمود ۵۴۷ سال ۱۹۳۶ رہا ہوں اور تم سے امید کرتا ہوں کہ تم بھی اسی راہ پر گامزن رہو گے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی جان کے مقابلہ میں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرو گے۔پس جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی ذات کیلئے یہ قربانیاں کیں وہ اس پیغام کیلئے جو آپ لائے کیا کچھ قربانیاں نہ کر سکتے ہوں گے اور انہوں نے کیا کچھ نہ کیا ہوگا۔صحابہ نے اس بارہ میں جو کچھ کیا اس کی مثال کے طور پر میں رسول کریم ﷺ کی وفات کا واقعہ پیش کرتا ہوں۔جب آپ کی وفات کی خبر صحابہ میں مشہور ہوئی تو ان پر شدید محبت کی وجہ سے گویا غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔حتی کہ بعض صحابہ نے یہ خیال کیا کہ یہ خبر ہی غلط ہے کیونکہ ابھی آپ کی وفات کا وقت نہیں آیا کیونکہ ابھی بعض منافق مسلمانوں میں موجود ہیں۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی خیال میں مبتلاء ہو گئے اور تلوار لے کر کھڑے ہو گئے کہ جو کہے گا آپ فوت ہو گئے ہیں میں اُس کی گردن اڑا دوں گا ھے۔آپ آسمان پر گئے ہیں پھر دوبارہ تشریف لا کر منافقوں کو ماریں گے اور پھر وفات پائیں گے۔بہت سے صحابہ بھی آپ کے ساتھ شامل ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم کسی کو یہ نہیں کہنے دیں گے کہ آپ وفات پاگئے ہیں۔بظاہر یہ محبت کا اظہار تھا مگر دراصل اُس تعلیم کے خلاف تھا جو آنحضرت ﷺ لائے کیونکہ قرآن کریم میں صاف موجود ہے صلى الله أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ : یعنی کیا اگر رسول کریم ﷺ فوت ہو جائیں یا قتل ہو جائیں تو کیا اے مسلمانو! تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔بعض صحابہ اس رو میں بہنے سے بیچ گئے اور انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف جو اُس وقت اتفاقا مدینہ سے چند میل باہر گئے ہوئے تھے ایک آدمی بھیجا جو آپ کو ان حالات کی خبر دے اور بلا کر بھی لائے۔آپ کو جب یہ خبر ملی تو آپ جلد واپس مدینہ تشریف لائے اور سیدھے اُس حجرہ میں چلے گئے جس میں آپ کا اطہر رکھا ہوا تھا اور آپ نے آپ کے چہرہ سے چادر اٹھائی اور دیکھا کہ واقعہ میں آپ فوت سوچکے ہیں۔پھر جھکے اور پیشانی پر بوسہ دیا آپ کی آنکھوں سے آنسونکل پڑے اور جسم اطہر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں نہیں لائے گا۔یعنی ایک تو ظاہری موت اور دوسرے یہ کہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم مٹ جائے۔پھر آپ باہر تشریف لائے جہاں صحابہ جمع تھے اور جہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ تلوار ہاتھ میں لے کر بڑے جوش میں