خطبات محمود (جلد 17) — Page 545
خطبات محمود ۵۴۵ سال ۱۹۳۶ اولادوں کے ذمہ یہی کام تھا کہ ان چیزوں کی حفاظت کریں۔رسول کریم اللہ پر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو چونکہ عرب کے لوگ وحی اور الہام سے نا آشنا تھے۔آپ یہ حکم سن کر کہ آپ ساری دنیا کو خدا تعالیٰ کا کلام پہنچا ئیں کچھ گھبرائے۔یعنی اس لئے کہ آپ اس عظیم الشان ذمہ واری کو کس طرح پورا کریں گے اور اسی گھبراہٹ میں آپ حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے۔شدت جذبات سے آپ اُس وقت سردی محسوس کر رہے تھے حتی کہ جب آپ گھر میں داخل ہوئے تو آپ نے فرما یا مَلُونِی زَمِلُونِی مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو۔حضرت خدیجہ نے دریافت فرمایا کہ آپ کو کیا تکلیف ہے؟ تو آپ نے انہیں سب واقعہ سنایا۔اس پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ ابدا ہرگز نہیں ہر گز نہیں۔خدا کی قسم ! خدا آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ میں فلاں فلاں خوبیاں ہیں۔اور ان خوبیوں میں سے ایک یہ بتائی کہ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ ٣ یعنی جو ا خلاق دنیا سے اٹھ گئے تھے آپ نے اپنے وجود میں ان کو دوبارہ پیدا کیا ہے اور بنی نوع انسان کی اس کھوئی ہوئی متاع کو دوبارہ تلاش کیا ہے پھر بھلا خدا آپ جیسے وجود کو کس طرح ضائع کر سکتا ہے۔تو انبیاء کی بعثت کی یہی غرض ہوتی ہے اور مؤمنوں کے سپر دیہی امانت ہوتی ہے جس کی حفاظت کرنا ان کا فرض ہوتا ہے۔محبت کی وجہ سے انبیاء کا وجود مؤمنوں کو بے شک بہت پیارا ہوتا ہے مگر حقیقت کے لحاظ سے انبیاء کی عظمت کی وجہ وہی نور ہے جسے دنیا تک پہنچانے کیلئے خدا تعالیٰ ان کو مبعوث کرتا ہے۔انہیں خدا تعالیٰ کا وہ پیغام ہی جو وہ لاتے ہیں بڑا بناتا ہے۔پس جب نبی کے اتباع اس وجود کی حفاظت کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں تو اس پیغام کی حفاظت کیلئے کیا کچھ نہ کرنے کیلئے تیار ہوں گے۔رسول کریم ﷺ کی جان کی حفاظت کیلئے صحابہ کرام نے قربانیاں کیں وہ واقعات پڑھ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان کی محبت دیکھ کر آج بھی دل میں محبت کی لہر پیدا ہو جاتی ہے۔احد کی جنگ میں ایک موقع ایسا آیا کہ صرف ایک صحابی رسول کریم۔ساتھ رہ گئے اور دشمن بے تحاشا تیر اور پتھر پھینک رہے تھے۔اُس صحابی نے اپنا ہاتھ حضور۔