خطبات محمود (جلد 17) — Page 544
خطبات محمود ۵۴۴ سال ۱۹۳۶ اسی طرح کئی واقعات مقدمات میں آپ کو ایسے پیش آتے رہے جن کی وجہ سے ان وکلاء کے دلوں میں جن کو ان مقدمات سے تعلق رہا کرتا تھا آپ کی بہت عزت تھی۔چنانچہ ایک مقدمہ میں آپ نے شیخ احمد علی صاحب کو وکیل نہ کیا تو انہوں نے لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے اس مقدمہ میں مجھے وکیل نہیں کیا اس لئے نہیں کہ میں کچھ لینا چاہتا تھا بلکہ اس لئے کہ مجھے خدمت کا موقع نہیں مل سکا۔تو سچائی اور راستبازی ایک ایسی چیز ہے کہ دشمن بھی اس سے اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔شیخ علی احمد صاحب آخر تک غیر احمدی رہے اور انہوں نے بیعت نہیں کی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ظاہری رنگ میں آپ کا اخلاص احمدیوں سے کسی طرح کم نہ تھا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے آپ کی سچائی کو ملاحظہ کیا تھا اور صرف شیخ علی احمد صاحب پر ہی کیا موقوف ہے جن جن کو بھی آپ سے ملنے کا اتفاق ہوا ان کی یہی حالت تھی۔جب جہلم میں مولوی کرم دین صاحب نے آپ پر مقدمہ کیا تو ایک ہند و وکیل لالہ بھیم سین صاحب کی چٹھی آئی کہ میرالڑکا بیرسٹری پاس کر کے آیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اسے آپ کی خدمت کرنے کی سعادت حاصل ہو اس لئے آپ اس کو اجازت دیں کہ وہ آپ کی طرف سے پیش ہو۔جس لڑکے کے متعلق انہوں نے یہ خط لکھا تھا وہ اب تک زندہ ہیں۔پہلے لاء کالج کے پرنسپل تھے پھر جموں ہائیکورٹ کے چیف جج مقرر ہوئے اور اب وہاں سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔انہوں نے الحاج سے یہ درخواست اس واسطے کی کہ اُن کو سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کچھ عرصہ رہنے کا اتفاق ہوا تھا اور وہ آپ کی سچائی کو دیکھ چکے تھے۔پس معلوم ہوا کہ سچائی ایک اعلیٰ پایہ کی چیز ہے جسے دیکھ کر دشمن کو بھی متاثر ہونا پڑتا ہے۔سچائی ایک ایسی چیز ہے جو اپنوں پر ہی نہیں بلکہ غیروں پر بھی اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔انبیاء دنیا میں آکر راستی اور سچائی کو قائم کرتے ہیں اور ایسا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور نقل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے دنیا میں آکر کوئی تو ہیں اور مشین گنیں ایجاد نہیں کی تھیں، بینک جاری نہیں کئے تھے یا صنعت و حرفت کی مشینیں ایجاد نہیں کی تھیں پھر وہ کیا چیز تھی جو آپ نے دنیا کو دی اور جس کی حفاظت آپ کے ماننے والوں کے ذمہ تھی۔وہ سچائی کی روح اور اخلاق فاضلہ تھے۔یہ چیز پہلے مفقود تھی آپ نے اسے کمایا اور پھر یہ خزانہ دنیا کو دیا اور صحابہ اور ان کی اولا دوں اور پھر ان کی الله