خطبات محمود (جلد 17) — Page 536
خطبات محمود ۵۳۶ سال ۱۹۳۶ سے کچھ لے بھی نہیں سکتی کیونکہ ہم پہلے ہی خدا تعالیٰ کیلئے سب کچھ چھوڑے بیٹھے ہیں۔تو ہم سے کسی چیز کا چھیننا کیا معنی؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک اندھا کسی سے باتیں کر رہا تھا اور اُس کی بلند آواز کی وجہ سے کسی تیسرے شخص کی نیند اُچاٹ ہو رہی تھی۔وہ اندھے سے کہنے لگا حافظ جی ! سو جائیں۔اس اندھے نے جواب دیا بھائی ! میں نے سونا کیا ہے بس خاموش ہی ہو رہنا ہے۔اُس کا مطلب یہ تھا کہ میری آنکھیں تو پہلے ہی بند ہیں اگر آواز بند کرلوں تو بس یہی میرا سونا ہو جائے گا۔یہی حالت کامل مؤمن کی ہوتی ہے کہ وہ پہلے تو خدا تعالیٰ کے راستے میں سب کچھ قربان کر کے بیٹھا ہوتا ہے تو دنیا اُس سے کیا چھینے گی؟ کچھ بھی نہیں۔مؤمن نے اگر دنیا کو تھوڑا بہت ہاتھ لگایا ہوا ہوتا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہی ہوتا ہے۔جیسا کہ سید عبد القادر صاحب جیلانی فرمایا کرتے تھے کہ میں جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہولے کھانے اور پہننے کی طرف ہاتھ کونہیں بڑھا تا۔اور ایسے شخص کو کوئی لالچ بھی کس طرح دلا سکتا ہے کیونکہ ایسے شخص کو خدا تعالیٰ زمین و آسمان کی بادشاہت دے دیتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کا نوکر ہو جاتا ہے۔تو کیا ایک ہزار روپے کے مالک کو کوئی چار آنے یا آٹھ آنے کا لالچ دے سکتا ہے؟ یا ایک کروڑ پتی کو کوئی دس روپے کی طمع دلا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔اور اگر کوئی اسے لالچ دلانے کی کوشش کرے گا تو وہ احمق ہی ہوگا۔جس شخص کو خدا مل گیا تو گویا اُس کو زمین و آسمان کے خزانوں کا مالک مل گیا اور اس طرح اُس شخص کے ہاتھ میں یہ سب خزانے بھی آگئے اور پھر ایسا انسان لالچ کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا۔اس کی ایک بین مثال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تبلیغ سے جب کفار مکہ تنگ آگئے تو وہ حضور کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ اپنی اس تبلیغ کو بند کر دیں اور اس کے بدلہ میں اگر آپ شادی کرنا چاہیں تو ہم اپنے میں سے خوبصورت سے خوبصورت عورتوں سے کروا سکتے ہیں۔اگر آپ مال کے خواہشمند ہیں تو ہم سب لوگ ہزاروں روپے آپ کو جمع کر کے لا دیتے ہیں اور اگر آپ دنیاوی عزت کے طالب ہیں تو ہم آپ کو اپنا سردار تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔لیکن برائے خدا اس تبلیغ کو بند کر دیں۔حضور کیونکہ دنیا کو بیچ اور ذلیل چیز سمجھتے تھے اس لئے اُن کو جواب دیا کہ یہ چیزیں تو کیا اگر تم سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ کر لا کر رکھ دو تو میں