خطبات محمود (جلد 17) — Page 535
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۲۶ سال ۱۹۳۶ء استعانت بغیر عبودیت کے حاصل نہیں ہو سکتی فرموده ۱۴ اگست ۱۹۳۶ء بمقام دھرم ساله) ( غیر مطبوعہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- کہنے کو تو سب لوگ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بندہ کہتے ہیں اور خواہ کوئی بادشاہ ہو یا فقیر اس بات میں جھجک محسوس نہیں کرتا کہ وہ خدا تعالیٰ کا غلام ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ واقعہ میں اس کے اندر عبودیت موجود بھی ہے یا نہیں ۔ منہ سے غلامی کا اقرار کر لینا اور بات ہے اور اپنے عمل سے یا ۔ غلامی کا اور ہے اور خدا تعالی کے کا پیش کرنا اور بات ہے۔ بسا اوقات ایک اسے خدا تعالیٰ کے غلام ہونے کا ثبوت پیش کرنا بالکل اور بات ہے۔ بسا اوقات ایک آدمی اپنے منہ پیش اور ہے۔ سے تو ایک بات کا اقرار کر لیتا ہے لیکن جب امتحان اور آزمائش کا وقت آتا ہے تو فیل ہو جاتا ہے۔ ابو سینا ایک شخص تھے جن کے خیالات بہت اعلیٰ ہوتے تھے ۔ انہوں نے ایک دفعہ ایسی بات کہی جس کا ان کے تمام شاگردوں پر خاص اثر ہوا کہ ان کا ایک شاگرد بے تحاشہ کہ اُٹھا آپ تو نبوت کے اہل ہیں آپ تو وہ کام کر سکتے ہیں جو آنحضرت ﷺ سے بھی نہیں ہو سکتے ۔ وہ تھے تو مسلمان لیکن اپنے شاگرد کی اس بات کو سن کر مصلحتاً خاموش ہور ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد سردی کا موسم آگیا اور اس قدر شدید سردی پڑی کہ تالابوں کا پانی منجمد ہونا شروع ہو گیا ۔ اس شدید سردی کی حالت میں انہوں نے ایک تالاب کو دیکھ کر اپنے اسی شاگرد کو کہا تم اس تالاب میں تو گو دو۔ یہ حکم سن کر ان کا شاگرد حیرت سے ا شاگرد حیرت سے ان کا منہ دیکھنے لگا جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ یہ کیسا تکلیف دہ اور ناممکن العمل حکم دے رہے ہیں اور کہنے لگا آپ مجھ سے یا تو مذاق کر رہے ہیں یا پھر آپ پاگل