خطبات محمود (جلد 17) — Page 504
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ لدمان سال ۱۹۳۶ء ان سے کم نہیں ان کو آپ کے بعد خلیفہ بننا چاہئے لیکن حضرت ابو بکر نے خلافت کیلئے حضرت عمرؓ کو ہی منتخب کیا ، باجود یکہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کی طبائع میں اختلاف تھا ۔ پس حضرت ابو بکر نے خلافت سے ذاتی فائدہ کوئی حاصل نہیں کیا بلکہ آپ خدمتِ خلق میں ہی بڑائی خیال کیا کرتے تھے۔ صوفیاء کی ایک روایت ہے ( وَاللهُ اَعْلَمُ کہاں تک درست ہے ) کہ حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکر کے غلام سے پوچھا کہ وہ کون کون سے نیک کام تھے جو تیرا آقا کیا کرتا تھا تا کہ میں بھی وہ کام کروں ۔ منجملہ اور نیک کاموں کے اس غلام نے ایک کام یہ بتایا کہ روزانہ حضرت ابوبکر روٹی لے کر فلاں طرف جایا کرتے تھے اور مجھے ایک جگہ کھڑا کر کے آگے چلے جاتے تھے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کس مقصد کیلئے اُدھر جاتے تھے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ اس غلام کے ہمراہ اُس طرف کو کھانا لے کر چلے گئے جس کا ذکر غلام نے کیا تھا۔ آگے جا کر کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غار میں ایک اپانچ اندھا جس کے ہاتھ پاؤں نہ تھے بیٹھا ہوا ہے ۔ حضرت عمرؓ نے اُس ا پانچ کے منہ میں ایک لقمہ ڈالا تو وہ روپڑا اور کہنے لگا اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے وہ بھی کیا نیک آدمی تھا۔ حضرت عمرؓ نے کہا بابا ! تجھے کس طرح پتہ چلا کہ ابوبکر فوت ہو گئے ہیں؟ اس نے کہا کہ میرے منہ میں دانت نہیں ہیں اس لئے ابوبکر میرے منہ میں لقمہ چبا کر ڈالا کرتے تھے آج جو میرے منہ میں سخت لقمہ آیا تو میں نے خیال کیا کہ یہ لقمہ کھلانے والا ابوبکر نہیں ہے بلکہ کوئی اور شخص ہے اور اور ابوبکر تو ناغہ بھی کبھی نہ کیا کرتے تھے اب جو ناغہ ہوا تو یقیناً وہ دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ پس وہ کونسی شے ہے جو بادشاہت سے حضرت ابو بکر نے حاصل کی؟ کیا سرکاری مال کو اپنا قرار دیا اور حکومت کی جائدادوں کو اپنا مال قرار دیا؟ ہرگز نہیں ۔ جو اشیاء ان کے رشتہ داروں کو ملیں وہ ان کی ذاتی جائداد سے تھیں ۔ اب شہداء کولو ۔ شہید وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔ پس جب خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ شہیدوں والا انعام مانگو تو یقینا اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہم کو یہ حکم دیا جار رہا ہے کہ تم خدا تعالیٰ سے یہ دعا مانگو کہ اے خدا ! ہم تیرے راستہ میں مارے جائیں اور غور کرو کہ بھلا مارے جانے والے کو دنیاوی فائدہ کیا پہنچ سکتا ہے۔ موت اور دنیاوی فائدہ کس طرح جمع ہو سکتے