خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 483

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۷۴ سال ۱۹۳۶ء صلى الله کر سکتا ہے کہ ان کا دسواں حصہ بھی ہم پر نہیں گزرا۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کے وسا صحابہ کو فرماتا ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ تم ان حالات سے نہ گزرو جن سے پہلے انبیاء کی جماعتیں گزری ہیں ہے ۔ آج بھی وہی خدا ہے، وہی دین ہے ، صداقت کو ثابت کرنے اور اس کے قائم ہونے کیلئے آج بھی وہی شرائط ہیں جو پہلے تھیں، وہی ذمہ داریاں ہمارے سپرد کی گئی ہیں ، اسی طرح ہم میں ایک مامور مبعوث کیا گیا ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ جو حالتیں پہلوں پر گزریں وہ ہم پر نہ گزریں، جو تکالیف پہلوں پر آئیں وہ ہم پر نہ آئیں ۔ ہم میں اور ان میں سوائے اس کے کیا فرق ہے کہ پہلی جماعتیں تکالیف اُٹھانے کی عادی تھیں اس لئے خدا تعالیٰ نے ان پر تکالیف جلد بھیج دیں لیکن ہم لوگ آرام طلبی کی وجہ سے اور ایسے ملک میں رہنے کی وجہ سے جہاں کی حکومت منتظم ہے اور جہاں چوری، ڈاکہ اور قتل وغیرہ کی وارداتیں بہت کم ہوتی ہیں مصائب کے عادی نہ رہے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ آہستہ آہستہ ہم پر بوجھ ڈالے اور یکدم مصائب کا دروازہ ہم پر نہ کھولے ۔ پس ان مصائب کے دیر سے آنے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت مخفی ہے نہ کہ اس کی غفلت ۔ ان کا آنا قابل تعجب نہیں بلکہ دیر سے آنا قابلِ تعجب ہے۔ پس جو احمدی خیال کرتا ہے کہ یہ مصیبتیں نا قابلِ برداشت ہیں ان ابتلاؤں میں کوئی ایسی بات ہے جن کو اس کا ایمان سمجھنے سے قاصر ہے وہ یاد رکھے کہ اُسے ایمان کی چاشنی عطا نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ کے انبیاء کی سنت اسے معلوم نہیں تم سے بہتر لوگوں کے ساتھ یہی باتیں گزریں اور صلى الله علوسم انہوں نے ان کو اور نظر سے دیکھا ۔ حضرت عمرؓ اللہ تعالیٰ کے کتنے مقرب تھے رسول کریم علی فرماتے ہیں کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا تو عمر ہوتا ہے ۔ یہاں میرے بعد سے مراد معاً بعد ہے۔ تو وہ شخص جسے رسول کریم ﷺ بھی اس قابل سمجھتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے کسی کو شہادت کے مرتبہ سے اٹھا کر نبوت کے بلند مرتبہ پر فائز کرنا ہوتا تو اس تے ہیں کہ کا مستحق عمر تھا۔ وہ عمر جس کی قربانیوں کو دیکھ کر یورپ کے اشد ترین مخالف بھی تسلیم کرتے۔ اس قسم کی قربانی کرنے اور اس طرح اپنے آپ کو مٹا دینے والا انسان بہت کم ملتا ہے اور جس کی خدمات کے متعلق وہ یہاں تک غلو کرتے ہیں کہ اسلام کی ترقی کو ان سے ہی وابستہ کرتے ہیں ۔ وہ عمر دعا کیا کرتے تھے کہ الہی ! میری موت مدینہ میں ہوا اور شہادت سے ہو۔ انہوں نے یہ دعا محبت