خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 483

خطبات محمود ۴۸۳ سال ۱۹۳۶ صلى الله ہی گیا کہ مکہ کے ظالم لوگو! آج تمہارے درودیوار کی اینٹ سے اینٹ ہم بجادیں گے۔لیکن محمد رسول اللہ ﷺ نے بجائے اُن کو سزا دینے کے خود اُن ہی سے دریافت کیا کہ اے مکہ کے رہنے والو! بتاؤ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ انہوں نے آگے سے جواب دیا کہ وہی جو یوسٹ نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔آپ نے فرمایا جاؤ میں نے تم کو معاف کیا۔تم مجھے یوسف سے کم رحم کرنے والا نہیں پاؤ گے اور سب کو معاف کر دیا۔یوسف کے بھائیوں نے انہیں صرف جلا وطن کیا تھا مگر رسول کریم ہے پر کفار کے مظالم کے مقابلہ میں جلا وطن کرنا کچھ چیز نہیں۔یہاں جلا وطنی تو ہزاروں ظلموں میں سے ایک ظلم تھی۔پھر یوسف کے سامنے اُس کے باپ جائے بھائی کھڑے تھے جن کی سفارش کرنے والے اُن کے ماں باپ موجود تھے مگر یہ لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کے عزیزوں اور بھائیوں کے قاتل تھے۔حضرت حمزہ کو قتل کرنے والے کون لوگ تھے ؟ رسول کریم ﷺ کی چہیتی بیٹی کو مارنے والے کون تھے جبکہ وہ حاملہ تھیں؟ اور خاوند نے اس خیال سے کہ والد کی عداوت کی وجہ سے لوگ انہیں مکہ میں تنگ کرتے تھے مدینہ روانہ کر دیا تھا مگر کفار نے راستہ میں انہیں سواری سے گرادیا جس سے اسقاط ہو گیا اور اسی کی وجہ سے بعد میں آپ کی وفات ہوگئی۔حضرت یوست کے سامنے کون سے جذبات تھے سوائے اس کے کہ ان کے بھائیوں نے اُن کو وطن سے نکال دیا تھا مگر یہاں تو یہ حالت تھی کہ ابو طالب کی روح آنحضرت ماہ سے کہہ رہی تھی کہ میرے (جس نے تیری خاطر تیرہ سال تک اپنی قوم سے مقابلہ کیا ) یہ لوگ قاتل ہیں۔عالم خیال میں حضرت خدیجہ آپ کے سامنے کھڑی کہہ رہی تھیں کہ میں نے اپنا مال و دولت ، اپنا آرام آسائش سب کچھ آپ کیلئے قربان کر دیا تھا اور یہ لوگ میرے قاتل ہیں۔حضرت حمزہ کھڑے کہہ رہے تھے کہ ان میں ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے میری لاش کی بے حرمتی کی تھی اور میرے جگر اور کلیجہ کو باہر نکال کر پھینک دیا تھا۔آپ کی بیٹی آپ کے سامنے کھڑی کہہ رہی تھیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ایک عورت پر ہاتھ اُٹھاتے ہوئے شرم نہ آئی اور ایسی حالت میں مجھ پر حملہ کیا جبکہ میں حاملہ تھی اور مجھے ایسا نقصان پہنچایا جس سے بعد میں میری وفات ہوگئی۔پھر وہ سینکڑوں صحابہ جو آنحضر صلى الله بچوں سے زیادہ عزیز تھے اور جن میں ایسے لوگ بھی تھے کہ جب ان میں سے ایک کو مکہ میں کفار نے پکڑا اور قتل کرنے لگے تو کہا کہ کیا تم یہ پسند نہ کرو گے کہ اس وقت تمہاری جگہ محمد ﷺ ہوں ! اور