خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 469

خطبات محمود ۴۶۹ سال ۱۹۳۶ حامل کوظلتی طور پر بادشاہت دے دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک تاجر کی مثال اکثر سنایا کرتے تھے کہ اس نے ایک دفعہ کچھ رقم شہر کے بڑے قاضی کے پاس امانت رکھی کہ جب میں سفر سے واپس آؤں گا تو اپنی امانت لے لوں گا لیکن جب وہ واپس آیا اور اس نے اپنی تھیلی مانگی تو قاضی نے صاف انکار کر دیا اور کہا ہے کیسی تھیلی اور کیسی امانت۔تاجر نے بہتیرے آتے پتے بتائے کہ فلاں وقت تھا اور فلاں دن تھا، اس طرح آپ بیٹھے تھے۔قاضی نے کہا کہ مجھے تو کوئی یاد نہیں اور میں تو امانتیں رکھا ہی نہیں کرتا۔اس جواب پر تاجر بہت پریشان ہوا آخر اُ سے کسی نے بتایا کہ ہفتہ میں فلاں دن بادشاہ کا کھلا در بار ہوتا ہے اور ہر شخص جا کر عرض کر سکتا ہے تم اس دن جانا اور جا کر اپنا قصہ سنانا۔اس نے ایسا ہی کیا مگر چونکہ تاجر کے پاس ثبوت کوئی نہیں تھا اس لئے بادشاہ نے کہا کہ شہر کے قاضی کو میں بغیر ثبوت کے کس طرح پکڑ سکتا ہوں۔ہاں ایک صورت ہو سکتی ہے کہ فلاں دن میری سواری اور جلوس نکلے گا تو قاضی کے قریب ٹھہر نا میں جب آؤں گا تو تم سے بے تکلفی سے باتیں کروں گا اور تم آگے سے ایسے ظاہر کرنا کہ گویا تم میرے دوست ہو ڈر نامت۔میں تمہیں کہوں گا کہ آپ ملے نہیں تو آگے سے جواب دینا کہ پہلے میں تو سفر پر گیا ہوا تھا پھر جب آیا تو کچھ امانت ایک صاحب کے پاس رکھی ہوئی تھی اس کا جھگڑا تھا وصولی کی کوشش میں ہوں اس لئے نہ مل سکا تو میں کہوں گا کہ نہیں تمہیں چاہئے تھا کہ ہمیں آکر ملتے اور آخر ایسے جھگڑے بھی ہمارے پاس ہی آتے ہیں پھر ہمیں آکر کیوں کی نہ کہا ؟ تو جواب دینا کہ اچھا اگر طے نہ ہوا تو پھر حاضر ہو جاؤں گا۔چنانچہ اس تاجر نے ایسا ہی کیا۔قاضی جو پاس ہی سلام کیلئے کھڑا تھا اُس نے یہ باتیں سن کر تاجر کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ میاں ! تم اس دن آئے تھے اور کسی تحصیلی کا ذکر کرتے تھے میرا حافظہ کمزور ہو گیا ہے کوئی نشان بتاؤ تو شاید مجھے امانت یاد آ جائے۔تاجر نے پھر پہلی ہی کہانی دُہرا دی کہ اس اس طرح میں آیا اور آپ فلاں مجلس میں بیٹھے تھے اور یوں میں نے تحصیلی دی تھی۔تو قاضی کہنے لگا کہ آپ نے پہلے کیوں نہ بتایا یہ امانت تو میرے پاس محفوظ ہے اور روپیہ لا کر تاجر کے حوالے کر دیا۔تو جب ایک دنیوی بادشاہ جس کو محدود طاقت حاصل ہے اُس کی دوستی انسان کو یہ مقام دے دیتی ہے کہ اس سے بڑے بڑے لوگ خوف کھاتے ہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی دوستی کسی کو حاصل ہو اور دنیا اس کے