خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 469

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ سال ۱۹۳۶ء غیر احمدیوں کی طرف ہے اپنی جماعت کی طرف نہیں ۔ اپنی جماعت کے متعلق غالباً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چاہے ڈوبے یا مرے ہمیں اس سے کیا کام ہے حالانکہ اگر وہ قلوب کی اصلاح کریں اور لوگوں کے دلوں میں عرفان اور اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کریں تو کروڑوں کروڑ لوگ احمدیت میں داخل ہونے لگ جائیں ۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ ہے کہ اگر تبلیغ کے ذریعہ تم اپنے مذہب کی اشاعت کرو گے تو ایک ایک دو دو کر کے لوگ تمہاری طرف آئیں گے لیکن اگر تم استغفار اور تسبیح کرو اور اپنی جماعت سے گناہ دور کر دو تو پھر فوج در فوج لوگ آئیں گے اور تمہارے اندر شامل ہو جائیں گے۔ تو جو ذرائع میں بتا رہا ہوں اُن پر عمل کرنے سے لاکھوں اور کروڑوں لوگ احمدیت میں داخل ہو سکتے ہیں مگر جو طریق تم اختیار کئے ہوئے ہو اس سے سینکڑوں سال میں بھی ہماری جماعت ساری دنیا میں نہیں پھیل سکتی ۔ اگر ہمارے اعمال اچھے ہوں ، ہم میں دیانت اور امانت پائی جاتی ہو اور ہم اتنی حلال روزی کما کر کھانے والے ہوں کہ جس کام پر مقرر کئے جائیں اُس کو پوری تندہی ، پوری خوش اسلوبی اور پوری دیانتداری کے ساتھ کریں تو ہر جگہ کی نوکریاں مل سکتی ہیں اور وہی انگریز جو آج کہتے ہیں کہ احمدیوں کو نوکریاں نہ دو ترلے اور منتیں کر کر کے تمہیں نوکریاں دینے کیلئے تیار ہو جائیں گے۔ مسٹر سٹرک لینڈ کو آپریٹو سوسائیٹیز کے ایک انگریز رجسٹرار تھے وہ شملہ میں ایک دفعہ مجھے ملے اور کہنے لگے آپ کے چندہ وصول کرنے والے کس دیانتداری سے کام لیتے ہیں میں تو جسے مقرر کرتا ہوں وہ تھوڑے دنوں میں ہی خائن ثابت ہو جاتا ہے اور مجھے اسے نکالنا پڑتا ہے۔ میں نے کہا ہمارے ہاں کوئی بد دیانتی نہیں کرتا کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ بد دیانتی انسانی ایمان کو ضائع کر دیتی ہے۔ وہ اُس وقت چھٹی پر جا رہے تھے کہنے لگے اگر میں واپس آیا تو حکومت سے درخواست کروں گا کہ کو آپریٹو سوسائیٹیز کے انسپکٹر پہلے چھ ماہ کیلئے امام جماعت احمد یہ کے پاس بھیج دیئے جایا کریں تاکہ وہ ان میں دیانت کی روح پیدا کر دیں۔ انہوں نے احمدیت کا کافی مطالعہ کیا۔ ہوا تھا اور وہ احمدیت سے بہت ہی متاثر تھے مگر انہوں نے تو صرف سطحی نگاہ سے جماعت کو دیکھ کر اس رائے کا اظہار کیا تھا لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہم میں بھی کمزور لوگ موجود ہیں اور اگر واقعہ میں ہم